گورنر نے قانونی رائے طلب کی، مزید چار بلز بھی سکریٹری قانون سے رجوع
حیدرآباد ۔18۔ اگست (سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان کشیدگی نے اس وقت نیا موڑ لے لیا جب گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام سے متعلق بل پر قانونی رائے طلب کی ہے۔ آر ٹی سی انضمام کے مسئلہ پر اسمبلی میں بل کی پیشکشی سے قبل ہی حکومت کے ساتھ گورنر کے اختلافات ظاہر ہوچکے تھے ۔ اسمبلی میں بل کی پیشکشی کی اجازت دینے میں ڈاکٹر سوندرا راجن نے تاخیر کی اور آر ٹی سی ملازمین کے احتجاج کے بعد اسمبلی کے آخری دن بل کو بعض وضاحتوں کے ساتھ کلیئرنس دیا گیا تھا۔ اسمبلی اور کونسل میں بل کی منظوری کے بعد دوبارہ یہ مسئلہ راج بھون سے رجوع ہوچکا ہے۔ حکومت کو امید تھی کہ گورنر بل کو منظوری دیں گی لیکن کچھ عرصہ تک غور و خوض کے بعد گورنر نے بل کو قانونی رائے کیلئے لا سکریٹری کے پاس روانہ کردیا۔ اسی دوران راج بھون کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے لا سکریٹری کو 10 سفارشات روانہ کی ہیں تاکہ آر ٹی سی ملازمین کی بھلائی میں فیصلہ ہو۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر کی جانب سے کسی بھی بل کے بارے میں قانونی رائے حاصل کرنا عام روایت ہے، لہذا گورنر نے چار علحدہ بلز پر بھی قانونی رائے طلب کی ہے۔ گورنر نے عوام اور بالخصوص آر ٹی سی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ مفادات حاصلہ کی جانب سے پھیلائی جارہی غلط اور بے بنیاد خبروں پر اعتبار نہ کریں۔ راج بھون نے گورنر کی جانب سے بلز کو صدر جمہوریہ سے رجوع کرنے سے متعلق اطلاعات کی تردید کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راج بھون کی ہمیشہ سے روایت رہی کہ جب کبھی کسی قانون کے بارے میں شبہات پیدا ہوں تو قانونی رائے حاصل کی جاتی ہے تاکہ بل میں کوئی خامی باقی نہ رہے۔ آر ٹی سی اور دیگر بلز کے علاوہ گورنر کے پاس قانون ساز کونسل کے لئے دو ناموں کی سفارش بھی زیر غور ہے ۔ حکومت نے گورنر کوٹہ کے تحت ایم ایل سی کی نشستوں کو پر کرنے کیلئے ڈی شراون اور کے ستیہ نارائنا کے نام پیش کئے لیکن گورنر نے ابھی تک ان ناموں کو منظوری نہیں دی۔
اسی دوران آر ٹی سی ملازمین کی تنظیموں نے گورنر سے ملاقات کا وقت مانگا ہے تاکہ آر ٹی سی بل کے مسئلہ پر نمائندگی کی جاسکے۔ آر ٹی سی ملازمین کی بعض تنظیموں نے بل کی منظوری میں تاخیر پر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔
