سرویس رولز پر عمل، آر ٹی سی ایمپلائیز کو سرکاری ملازمین کا اعزاز
حیدرآباد ۔ 20 ستمبر ۔ ( سیاست نیوز)تلنگانہ حکومت نے ٹی ایس آر ٹی سی ایمپلائیز کو حکومت میں ضم کرتے ہوئے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔ 15 ستمبر سے آر ٹی سی کے ایمپلائیز سرکاری ملازمین کہلائیں گے ۔ فی الحال آر ٹی سی میں عمل ہونے والے قواعد پر جوں کا توں عمل ہوگا ۔ آر ٹی سی کے مختلف شعبوں میں 43,045 ایمپلائیز خدمات انجام دے رہے ہیں یہ انضمام کا عمل آندھراپردیش کی پالیسی پر عمل کرنے کا فیصلہ ہے ۔ محکمہ فینانس کے اسپیشل چیف سکریٹری کے رام کرشنا راؤ کی قیادت میں عہدیدار اس معاملے کا جائزہ لے ہیں۔ سب سے پہلے ملازمین کی تنخواہوں اور سیناریٹی کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کی بنیاد پر ملازمین کے کیڈر کا فیصلہ کیا جائیگا ۔ کنڈاکٹر اور ڈرائیور کے عہدوں کو جونیر یا سینئر اسسٹنٹ کا عہدہ دینے پر غور کیا جارہا ہے ۔ دراصل تلنگانہ ریاست کے ماتحت سرویس رولز سرکاری ملازمین پر لاگو ہوتے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کے دیگر تنظیموں نے بھی چند مسائل پر اپنے اعتراضات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آر ٹی سی ملازمین کو سرکاری ملازمین کے تحت لایا جاتا ہے تو موجودہ سرکاری ملازمین کو ترقیوں میں دشواری ہوگی اور سرکاری ملازمین کی جانب سے ترقیوں میں ناانصافی کے خلاف احتجاج شروع کرنے کا بھی خطرہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت آر ٹی سی ملازمین کو ماتحت سرویس رولز کے تحت لائے بغیر سرکاری ملازمین پر لاگو تمام مالی فائدے فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ کیڈر کی تصدیق کے بعد ہی جی او جاری کرنے کی اُمید ہے ۔ آر ٹی سی ایمپلائیز جوائنٹ ایکشن کمیشن کے صدرنشین اشوتھاماریڈی ، جنرل سکریٹری راجیہ ریڈی ، اسٹاف اینڈ ورکرس فیڈریشن کے جنرل سکریٹری وی وی ایس راؤ نے مطالبہ کیا کہ حکومت 2017 ء اور 2021 ء کے پی آر سی کے ساتھ پی آر سی 2013 کے 50 فیصد بانڈ بقایا جات کی ادائیگی کا بھی علحدہ علحدہ اعلان کریں ۔ ن