آر ٹی سی بحران میں چیف جسٹس کا نام گھسیٹنے کی مذمت

   

زیر التواء مقدمہ کے بارے میں عدالت کے باہر بات چیت ممکن نہیں، ڈاکٹر شراون کا بیان
حیدرآباد۔/30 نومبر، ( سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان ڈاکٹر شراون نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آر ٹی سی ہڑتال کے مسئلہ پر چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان کے نام کو غیر ضروری طور پر گھسیٹنے کی کوشش کی ہے۔ چیف منسٹر نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے اس جانب توجہ مبذول کرائی تھی۔ ڈاکٹر شراون نے اس سلسلہ میں چیف جسٹس سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا چیف جسٹس کیلئے قانونی اور اخلاقی طور پر جائز ہے کہ وہ چیف منسٹر سے اس مسئلہ پر بات چیت کریں جو ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ہڑتال کے سلسلہ میں ہائی کورٹ میں کئی درخواستیں زیر التواء ہیں اور چیف جسٹس اس مرحلہ پر کس طرح عدالت کے باہر چیف منسٹر کو مشورہ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چندر شیکھر راؤ کو عوام کو گمراہ کرنے کی عادت ہے لہذا چیف جسٹس کو وضاحت کرنی چاہیئے کہ آیا انہوں نے چیف منسٹر سے آر ٹی سی ہڑتال کے مسئلہ پر بات چیت کی تھی؟۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آر ٹی سی ہڑتال کے مسئلہ پر عدالت کے احکامات کی تعمیل سے انکار کرتے ہوئے عدلیہ کی توہین کی ہے۔ سینئر بیورو کریٹس کو ہائی کورٹ کے روبرو جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ حکومت کے موقف کو درست ثابت کیا جائے۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ کے سی آر کی جانب سے پریس کانفرنس میں چیف جسٹس کا نام لینا مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے ہائی کورٹ اور چیف جسٹس کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر شراون نے کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ عوام سے غیر مشروط معذرت خواہی کریں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر شراون نے کہا کہ چیف منسٹر نے آر ٹی سی ملازمین کو معاشی بحران میں جھونک دیا ہے۔