کیلو میٹر پر 25 پیسے کے اضافہ سے سالانہ 750 کروڑ کی آمدنی کی توقع
حیدرآباد ۔ 6 نومبر (سیاست نیوز) خسارے کا شکار آر ٹی سی کو نفع بحش ادارے میں تبدیل کرنے آر ٹی سی بسوں کے کرایوں میں اضافہ کرنے کئی زاویوں سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ ہفتہ 10 دن میں شرحوں کو قطعیت دینے کا امکان ہے۔ ایک ماہ قبل ہی محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کا اجلاس طلب کرکے چیف منسٹر نے آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافہ کو ہری جھنڈی دکھا دی اور کابینہ اجلاس میں منظوری کا فیصلہ کرکے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ عہدیداروں نے ڈیزل کی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چار تجاویز تیار کی ہیں اور ان کو چیف منسٹر آفس سے رجوع کردیا ۔ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ شرحوں میں اضافہ کیلئے چیف منسٹر تیار ہیں۔ تاہم سیاسی وجوہات کے پیش نظر مسئلہ کو زیرالتواء رکھا گیا تھا۔ انتخابی عمل مکمل ہوچکا ہے۔ ہم چیف منسٹر کی طلبی کا انتظار کررہے ہیں۔ دو سال قبل آر ٹی سی ہڑتال کے بعد ڈسمبر 2019ء میں کیلو میٹر پر 20 پیسے کا اضافہ کیا تھا جس کی وجہ سے عوام پر سالانہ 550 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوا تھا اور ساتھ ہی اس وقت 68 روپئے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت تھی۔ اب ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 105 روپئے ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد آر ٹی سی کو سبسڈی کے تحت 90 روپئے فی لیٹر ڈیزل دستیاب ہے۔ 2 سال قبل آر ٹی سی کی شرحوں میں اضافہ کے وقت اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے ڈیزل قیمت میں 20 روپئے کا اضافہ ہوگیا ۔ چار تجاویز کے مطابق ایک کیلو میٹر پر 15 پیسے، 20 پیسے، 25 پیسے اور 30 پیسے بڑھانے کی تجاویز ہے ۔ 20 پیسے پر 625 کروڑ روپئے کی آمدنی 25 پیسے پر 750 کروڑ کی آمدنی 30 پیسے پر 900 کروڑ روپئے آمدنی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ 30 پیسے بڑھانے پر آر ی سی کو راحت مل سکتی ہے۔ عوام کی جانب سے بہت بڑا بوجھ تصور کرنے کے خطرہ کو سامنے رکھا ہے۔ درمیانی راستہ کے طور پر 25 پیسے بڑھانے کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے آر ٹی سی کو یومیہ 90 لاکھ روپئے کا بوجھ گھٹ گیا ہے۔ ن