آر ٹی سی مسئلہ پر آج ہائیکورٹ رولنگ کے بعد قطعی فیصلہ

,

   

Ferty9 Clinic

چیف منسٹر نے اعلی سطح کے اجلاس میں جائزہ لیا ۔ کارپوریشن کو 5000 روپئے کا قرض ‘ ماہانہ 640 کروڑ درکار
ِجوں کی توں کی حالت میں آر ٹی سی کو چلانا ممکن نہیں۔ معاشی سست روی کی وجہ سے حکومت بھی مدد کرنے سے قاصر

حیدرآباد 21 نومبر ( سیاست نیوز ) حکومت تلنگانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آر ٹی سی کی ہڑتال اور دیگر امور پر جمعہ کو ہائیکورٹ کی امکانی رولنگ کے بعد کوئی قطعی فیصلہ کیا جائیگا ۔ ہائیکورٹ میں آر ٹی سی کی روٹس کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے سے متعلق مقدمہ پر جمعہ کو قطعی فیصلہ کئے جانے کی امید ہے ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ جے اے سی نے ریاست میں آر ٹی سی ملازمین کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ملازمین میں پیدا ہوئی مایوسی اور اموات کے پیش نظر ہڑتال کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے بشرطیکہ حکومت ملازمین کو غیر مشروط طور پر رجوع بکار ہونے کی اجازت دے ۔ آر ٹی سی جے اے سی کے اس فیصلے پر ابھی تک ریاستی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کی صدارت میں ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آر ٹی سی مسئلہ پر تفصیلی غور کیا گیا اور یہ جائزہ بھی لیا گیا کہ اس پر کیا فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تلنگانہ آر ٹی سی کے مالی موقف کا جائزہ لیا جائے ۔ عدالتی فیصلوں پر غور کیا جائے اور عدالت میں زیر تصفیہ مقدمات کو بھی پیش نظر رکھا جائے ۔ ریاستی حکومت کا یہ پختہ خیال ہے کہ آر ٹی سی کے مسائل کا کوئی مستقل حل دریافت کیا جانا چاہئے اور ریاست کے عوام کو موجودہ حالات کی روشنی میں بہتر ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ پرگتی بھون میں آج منعقدہ اجلاس میں ٹرانسپورٹ کے وزیر پی اجئے کمار ‘ حکومت کے مشیر اعلی راجیو شرما ‘ چیف سکریٹری ایس کے جوشی ‘ سینئر عہدیداران ایس نرسنگ راو ‘ سنیل شرما ‘ راما کرشنا راو ‘ سندیپ سلطانیہ ‘ سنتوش ریڈی ‘ اٹارنی جنرل پرساد ‘ اڈیشنل اٹارنی جنرل رامچندر راو اور دوسرے موجود تھے ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ آر ٹی سی پر فی الحال 5 ہزار کروڑ روپئے کا قرض ہے اور 2000 کروڑ کا قرض ایسا ہے جس کی فوری پابجائی کی جانی ہے ۔ چونکہ پراویڈنٹ فنڈحکام نے ہدایت دی ہے کہ ماہ ستمبر کی مکمل تنخواہ ملازمین کو ادا کی جائے جس کیلئے 240 کروڑ روپئیح درکار ہیں۔ سی سی ایس 500 کروڑ روپئے ادا کرنا ہے ۔ ڈیزل کے بقایہ جات کی ادائیگی بھی باقی ہے ۔ ٹرانسپورٹ ٹیکس بھی واجب الادا ہے جو دو سال سے ادا نہیں کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ 2,600 پرانی بسوں کو بدل کر نئی بسیں حاصل کرنے کیلئے بھی رقومات درکار ہیں۔ پی ایف کے بقایہ جات 65 تا 70 کروڑ روپئے ہیں۔ جملہ آر ٹی سی کو فی الحال چلانے کیلئے 640 کروڑ روپئے فی ماہ درکار ہیں۔ حکومت نے غور کیا کہ یہ بوجھ کون ادا کریگا ؟ ۔ آر ٹی سی میں اتنی معاشی استطاعت نہیں ہے کہ وہ یہ اخراجات برداشت کرے ۔ معاشی سست روی کی وجہ سے ریاستی حکومت بھی یہ بوجھ برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ حکومت اگر مدد کرے بھی تو کس حد تک کی جاسکتی ہے ۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ آر ٹی سی کو چلانے کیلئے سوائے کرایہ میں اضافہ کے کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا ہے ۔ اگر کرایہ میں اضافہ کیا جاتا ہے تو لوگ بس ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کے موقف میں نہیں رہیں گے ۔ ساری صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اجلاس میں یہ احساس تھا کہ آر ٹی سی کو فی الحال جوں کی توں نہیں چلایا جاسکتا ۔ ہائیکورٹ میں کل جو امکانی رولنگ آسکتی ہے اس کو دیکھنے کے بعد ہی حکومت کی جانب سے اس تعلق سے کوئی قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ ہائیکورٹ کے فیصلے اور دیگر تمام امور کا تفصیلی جائزہ لینے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔