آر ٹی سی ملازمین سے مذاکرات کرنے حکومت کو ہدایت

   

21مطالبات شامل کرنے کی خواہش ،ایڈوکیٹ جنرل کی غیر حاضری پرتلنگانہ ہائیکورٹ کی برہمی ، آج دوبارہ سماعت

حیدرآباد۔28اکٹوبر(سیاست نیوز) آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال غیر قانونی ہے تو حکومت کل ہڑتالی ملازمین کے خلاف کی گئی کاروائی کی رپورٹ پیش کرے اور عدالت کو اس بات سے واقف کروائے کہ ہڑتال کس طرح سے غیر قانونی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں آج حکومت کی جانب حلف نامہ داخل کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ہڑتالی ملازمین کو مذاکرات کے لئے طلب کیاگیا تھا لیکن وہ انضمام کے بغیر مذاکرات کیلئے تیار نہیں تھے اور واپس چلے گئے جبکہ ریاستی حکومت اورآر ٹی سی انتظامیہ کی جانب سے آرٹی سی ملازمین کو عدالت کے احکام کے بعد مذاکرات کے لئے مدعو کیا گیا تھا ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ہڑتال کے سبب عوام کو ہونے والی تکالیف کے سلسلہ میں داخل کی گئی ایک درخواست کی سماعت کررہی تھی اور اس مقدمہ کی سماعت کو 29 اکٹوبر 2:30 بجے دوپہر تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت منگل کے دن رکھنے کا اعلان کیا ۔ ایڈوکیٹ جنرل کی عدم موجودگی پر عدالت نے برہمی کااظہار کیا اور کہا کہ جب بھی اس مقدمہ کی سماعت ہو وہ موجود رہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے آرٹی سی کو ہونے والے نقصانات کے علاوہ آر ٹی سی پر موجود قرضہ جات کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خزانہ میں صرف 10 کروڑ روپئے موجود ہیں اور ہڑتال کے سبب حکومت کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔عدالت نے حکومت کی جانب سے مسئلہ کے حل کے لئے مثبت اقدامات نہ اٹھائے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ٹرین سے زیادہ بس کے مسافرین ہیں اور کئی اضلاع سے مریضوں کو شہر ی علاقوں میں بسوں کے ذریعہ پہنچنا پڑتا ہے اس کے باوجود بھی ہڑتال 24 دن سے جاری ہے۔حکومت کی جانب سے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریاست میں آرٹی سی ہڑتال کے سبب اب تک 175 کروڑ کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ اس نقصان میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے۔ آر ٹی سی ملازمین کی تنخواہوں کے علاوہ دیگر امور کے متعلق داخل کی گئی تمام درخواستوں کی سماعت کل تلنگانہ ہائی کورٹ میں مقرر ہے اور اس مقدمہ کی سماعت بھی کل ہی مقرر کئے جانے کے پر کہا جا رہاہے کہ حکومت کو عدالت سے فوری طور پرکوئی راحت حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے کیونکہ عدالت نے کل ایڈوکیٹ جنرل کو بھی عدالت میں موجود رہنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ انضمام کی بات چیت کو اگلے مرحلہ کا حصہ بناتے ہوئے دیگر امور پر بات چیت کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور ایسا کیوں نہیںکیا جانا چاہئے ۔ حزب مخالف کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ حکومت ایسا کرنے تیار نہیں ہے بلکہ واضح طور پر یہ کہا جا رہاہے کہ انضمام کے مطالبہ سے دستبرداری پر ہی مذاکرات کئے جائیں گے جبکہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ مالی بوجھ عائد کرنے والے مطالبات کو فی الحال مذاکرات میں شامل نہ کیا جائے اور مابقی 21مطالبات پر مذاکرات شروع کئے جائیں۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کو ملازمین کے مفادات کے تحفظ پر توجہ دینی چاہئے ۔عدالت نے واضح کیا کہ ہڑتالی ملازمین کے 21 مطالبات پر سنجیدگی سے مذاکرات ہونے چاہئے کیونکہ ان کے یہ مطالبات ناجائز نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ مقدمہ آر ٹی سی بقایاجات کی ادائیگی کا نہیں ہے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آر ٹی سی منیجنگ ڈائریکٹر کا تقرر اب تک کیوں عمل میں لایا نہیں گیا !عدالت نے حکومت کی جانب سے فنڈس نہ ہونے کے استدلال کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نہیں دے گی تو کیا عدالت کی جانب سے یہ پیسے دئیے جائیں!