کل ریاست بھر میںتمام ڈپوز پر مظاہرے : نیشنل مزدور یونین
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : نیشنل مزدور یونین نے تلنگانہ اسٹیٹ آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کر کے کنڈکٹرس ، ڈرائیورس کی ملازمتوں کا تحفظ فراہم کرنے اور ٹی ایس آر ٹی سی میں مخلوعہ جائیدادوں پر فی الفور تقررات عمل میں لانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ صدر ٹی ایس آر ٹی سی این ایم یو ، مسٹر ٹی سدھاکر جنرل سکریٹری کے ہنمنتو مدیراج نے یونین کی دوسری سالانہ کانفرنس کے موقعہ پر بتایا کہ آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کا طویل عرصہ سے مطالبہ کیا جارہا ہے اور آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کے نتیجہ میں آر ٹی سی ملازمین بشمول کنڈکٹرس و ڈرائیورس کو ملازمتوں کا تحفظ فراہم ہوسکے گا اور روڈ ٹرانسپورٹ ادارہ بھی مالی اعتبار سے مضبوط و مستحکم ہو سکے گا ۔ ان قائدین نے ٹی ایس آر ٹی سی انتظامیہ کو ہدف ملامت بناتے ہوئے کہا کہ ملازمین کے دیرینہ حل طلب مختلف مسائل کی یکسوئی کو انتظامیہ بالکلیہ انداز کررہا ہے جس سے ملازمین میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے اور ہر کوئی آر ٹی سی ملازم اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرلینے پر مجبور ہورہا ہے ۔ نیشنل مزدور یونین ٹی ایس آر ٹی سی نے حکومت اور انتظامیہ سے آر ٹی سی کی کارکردگی کو فعال و کارکرد بنانے نئی بسوں کی خریدی کرنے ، ملازمین کیلئے پے ریویژن کمیشن ( پی آر سی) پر عمل آوری کرنے ، ملازمین کیلئے سی سی ایس قرضہ جات منظور کرنے ، ملازمین کے افراد خاندان بشمول والدین کو سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس میں طبی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ان مطالبات پر انتظامیہ کی جانب سے کوئی توجہ نہ دی گئی تو 24 جون کو ریاست کے تمام آر ٹی سی بس ڈپوز کے روبرو بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنا منظم کرنے اور 26 جون کو ریاست بھر میں یعنی تمام آر ٹی سی بس ڈپوز کے روبرو بھوک ہڑتال شروع کرنے کا انتباہ دیا ۔
