سی پی آئی کو ٹی آر ایس کی تائید سے دستبرداری اور کانگریس کی تائید کا مشورہ
حیدرآباد۔/10 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کے مسائل کی یکسوئی کیلئے وہ جیل جانے کیلئے تیار ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے آر ٹی سی ملازمین کے احتجاجی دھرنے میں حصہ لیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کے منصفانہ مطالبات کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ اگر انہیں اس کے لئے جیل جانا پڑے تب بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ ہے اور وہ مسائل کے حل تک جدوجہد میں شامل رہے گی۔ بھٹی وکرامارکا نے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کے بیان کا خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے حضور نگر میں ٹی آر ایس کی تائید کا از سر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی قائد کو فوری اپنے فیصلہ کا اعلان کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت کے مخالف مزدور فیصلوں کے خلاف سی پی آئی کو چاہیئے کہ وہ کانگریس کی تائید کرے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے اثاثہ جات کے تحفظ کیلئے عوام کو متحد ہونا چاہیئے۔ کے سی آر اور ان کے ارکان خاندان کی آر ٹی سی کے اثاثہ جات پر نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 48000 سے زائد ملازمین کو یکلخت برطرف کردینے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملازمین کی برطرفی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ دیگر تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں احتجاج کی تیاری کررہی ہیں اور وہ دن دور نہیں جب کے سی آر کے زوال کا آغاز ہوجائے گا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کے سی آر کو جان لینا چاہیئے کہ یہ جمہوریت ہے ڈکٹیٹر شپ نہیں۔ یہ وہی آر ٹی سی ملازمین ہیں جنہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران ہڑتال کے ذریعہ تحریک کو تقویت بخشی تھی۔ آج وہی ملازمین کے سی آر کو بُرے دکھائی دے رہے ہیں۔ حقوق کے بارے میں سوال کرنے پر کے سی آر کی برہمی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نگر کے ضمنی انتخابات میں کانگریس کی تائید میں آر ٹی سی ملازمین کو ’ چلو حضور نگر ‘ ریالی کا اہتمام کرتے ہوئے کے سی آر کو سبق سکھانا چاہیئے۔