پرانے شہر کے عوام کی جیب پر سب سے زیادہ بوجھ ، میٹرو ریل سرویس نہ ہونے سے مزید پریشانی
حیدرآباد۔26نومبر(سیاست نیوز) بس ہڑتال کے دوران شہریوں کو ماہانہ سفری اخراجات کے لئے 3تا5 ہزار روپئے اضافی خرچ کرنے پڑے اور شہر حیدرآباد کے عوام میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں پرانے شہر کے عوام ہیں جنہیں بس ہڑتال کے دوران آٹو اور دیگر سفری سہولتوں سے استفادہ کرنا پڑا ہے۔ 52یوم تک جاری رہنے والی ہڑتال کے دوران نئے شہر کے بیشتر علاقوں کے عوام نے میٹرو ریل کا استعمال کرتے ہوئے بس ہڑتال سے ہونے والی مشکلات سے نجات حاصل کی لیکن پرانے شہر کے عوام جو کہ میٹرو ریل کا منصوبہ ہونے کے باوجود اب تک میٹرو کی خدمات سے محروم ہیں انہیں کوئی متبادل سہولت حاصل نہ ہوسکی جس کے سبب انہیں آٹو پر انحصار کرنا پڑا جس کے سبب انہیں ماہانہ 3ہزار تا5ہزار کے اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ حکومت اور آرٹی سی ملازمین کے درمیان جاری رہنے والی ٹکراؤ کی صورتحال کے دوران حکومت اور پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی اس جانب توجہ نہیں دی گئی کہ پرانے شہر کے عوام کیلئے کوئی خصوصی متبادل انتظام کیا جائے جبکہ میٹرو ریل جن علاقوں سے گذرتی ہے ان علاقوں میں اضافی ٹرینوں کا سلسلہ شروع کیا گیا اور میٹرو کے اوقات کار میں بھی اضافہ کیا گیا جس کے سبب شہریو ں کو آرٹی سی ہڑتال کے باوجود مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔پرانے شہر میں بس ہڑتال کے دوران بسوں کی کمی کے علاوہ میٹرو نہ ہونے کے سبب آٹو ڈرائیورس کی من مانی کا سلسلہ جاری رہا اور اس جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ سٹ ون کے ذریعہ چلائی جانے والی بسوں کو بھی پرانے شہر کی روٹس کے بجائے طویل روٹس پر خدمات انجام دینے کی ہدایت دیتے ہوئے پرانے شہر کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے چھوڑدیا گیا۔ اب جبکہ ریاست میں میں بس ہڑتال ختم ہوچکی ہے تو پرانے شہر کے عوام کا کہنا ہے کہ میٹرو ریل کے کام اگر مکمل کرلئے جاتے تو انہیں ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی ان پر ماہانہ 5ہزار روپئے تک کے سفری اخراجات کا بوجھ عائد ہوتا۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری و ترقیاتی کاموں کی شروعات کے سلسلہ میں یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ مختص نہ کئے جانے کے سبب حیدرآباد میٹرو ریل اس راہداری کے سلسلہ میں کوئی جواب دینے کے موقف میں نہیں ہے جبکہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات سے قبل اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ پرانے شہر میں منظورہ راہداری پر ہی میٹرول ریل کے کاموں کا جلد بلکہ اندرون ایک ہفتہ آغاز کردیا جائے گا لیکن اب جبکہ اس اعلان کو ایک سال کا عرصہ گذر چکا ہے اس کے باوجود بھی حکومت ‘ حیدرآباد میٹرو ریل یا اعلان کرنے والے نمائندوں کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی اور نہ ہی استفسار کیا جا رہاہے کہ آخر پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کی شروعات کب ہوگی!