آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ کے سی آر کا انتقامی رویہ: محمد علی شبیر

   

پولیس حکومت کے دباؤ میں نہ آئے، ملازمین کی تنظیموں سے متحد ہونے کی اپیل
حیدرآباد۔/10 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کے سی آر حکومت پر آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ انتقامی کارروائی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتالی ملازمین اپنے جائز مطالبات کی یکسوئی کی مانگ کررہے ہیں۔ حکومت کو ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے انتقامی سیاست پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے تارناکہ میں واقع آر ٹی سی ہاسپٹل میں ملازمین کو طبی سہولتیں بند کرنے سے متعلق فیصلہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ غیرانسانی اور ناقابل قبول ہے۔ آر ٹی سی ملازمین نے کئی دہوں تک ادارہ کی خدمت کی اور چیف منسٹر کے احکامات قبول نہ کرنے پر انہیں طبی سہولتوں سے محروم کرنا افسوسناک ہے۔ کے سی آر کسی بھی طرح ہڑتال کو ختم کرانا چاہتے ہیں جبکہ ملازمین انہیں بات چیت کیلئے مدعو کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ملازمین نے ایسا کوئی جرم یا گناہ نہیں کیا کہ انہیں اور ان کے ارکان خاندان کو دواخانہ میں علاج سے محروم رکھا جائے۔ علاج سے محرومی کے سی آر کی ڈکٹیٹر شپ کو ظاہر کرتی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حیدرآباد میں وبائی امراض کے سبب ہزاروں خاندان متاثر ہیں جن میں آر ٹی سی ملازمین اور ان کے ارکان خاندان بھی شامل ہیں۔ کے سی آر حکومت نے انہیں طبی سہولتوں سے محروم کرتے ہوئے غیرانسانی سلوک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیک وقت 48000 ملازمین کو خدمات سے برطرف تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کے سی آر ایک ڈکٹیٹر کی طرح فرمان جاری کرتے ہوئے جمہوریت اور دستور کی دھجیاں اُڑارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تک ملازمین کی برطرفی کے سلسلہ میں کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو دستور اور قانون کا احترام کرتے ہوئے زبانی احکامات سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے پولیس اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کو متنبہ کیا کہ وہ کے سی آر اور ان کے وزراء کے غیر قانونی احکامات پر عمل آوری سے گریز کریں ورنہ مستقبل میں ان کیلئے مسائل پیدا ہوں گے ۔ چیف منسٹر اور وزراء پانچ سال میں تبدیل ہوجائیں گے لیکن پولیس اور دیگر محکمہ جات کے تابعداری کرنے والے عہدیداروں کو خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر انتقامی سیاست کیلئے مشہور ہیں۔ انہوں نے تمام اپوزیشن قائدین کو پولیس اور انتظامیہ کا بیجا استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا ہے۔ انہیں سیاسی مخالفین اور ملازمین کے درمیان فرق کو محسوس کرنا چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے تمام سرکاری ملازمین سے متحد ہوکر اپنے مسائل کیلئے آواز اٹھانے کی اپیل کی اور کہاکہ اگر ایسے وقت پر وہ خاموش رہیں گے یا کے سی آر کی تائید کریں گے تو آئندہ آپ کا نمبر آئے گا۔ کے سی آر یکے بعد دیگرے ملازمین کی تمام یونینوں کو ختم کرتے ہوئے اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔