بات چیت اچانک ختم ہوگئی، ہڑتال جاری رہے گی : اشواتھاماریڈی
حیدرآباد ۔ 26 اکٹوبر (این ایس ایس) آر ٹی سی مینجمنٹ نے آج ٹی ایس آر ٹی سی کے ٹریڈ یونین قائدین کے ساتھ بات چیت منعقد کی تھی لیکن جے اے سی قائدین نے کہا کہ یہ بات چیت اچانک ختم ہوگئی جبکہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال 22 دن میں داخل ہوگئی۔ یہاں ارم منزل میں منعقدہ بات چیت کے بعد میڈیا سے مخاطب کرتے ہوئے جے اے سی کنوینر اشواتھاماریڈی نے کہا کہ انہوں نے ان کے 26 مطالبات بشمول آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے پر بات کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ آر ٹی سی انچارج منیجنگ ڈائرکٹر نے کہا کہ وہ صرف 21 مطالبات پر بات کریں گے اور انضمام کے مسئلہ پر بات کرنے کا سوال ہی نہیں ہے۔ ٹی ایس آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کا واحد مطالبہ تھا جس کے نتیجہ میں بات چیت اچانک ختم ہوگئی۔ مسٹر ریڈی نے کہا کہ ہڑتال جاری رہے گی اور وہ دوبارہ جب کبھی مینجمنٹ انہیں طلب کرے وہ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مینجمنٹ نے عدالت کے حکم کو بھی مسخ کیا ہے اور بات چیت شروع کرنے سے قبل ان پر ہڑتال ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ وہ چاہتے تھے کہ 8 نمائندوں کو بات چیت میںحصہ لینے کی اجازت دی جائے لیکن مینجمنٹ نے بات چیت کیلئے صرف چار کو اجازت دی اور پولیس نے دوسرے قائدین کو اس مقام پر داخل ہونے سے روک دیا۔ انہوں نے بھی الزام عائد کیا کہ انہیں بات چیت کے مقام پر داخل ہونے کی اجازت دینے سے قبل ان کے سیل فونس لے لئے گئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد حکومت نے ای ڈیز کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی نے کل انچارج ایم ڈی سنیل شرما کو اس کی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کو وزیرٹرانسپورٹ کے حوالہ کیا گیا۔ اس کے بعد وزیرموصوف نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے ساتھ ایک میٹنگ کی تب چیف منسٹر نے جے اے سی قائدین کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت دی تاہم یہ بات چیت آج اچانک ختم ہوگئی۔