9 ماہ سے کرایوں کی عدم ادائیگی ، اثاثوں کی فروخت کے ذریعہ قرض کی ادائیگی ، مالکین کا بس بھون پر احتجاج
حیدرآباد۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں بس کرایہ پر لگانے والے مالکین بس کی جانب سے بس بھون کے روبرو دھرنا منظم کرتے ہوئے بسوں کے کرایہ کے بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔ لاک ڈاؤن اور لاک ڈاؤن میں رعایت کے باوجود شہر حیدرآباد میں بس خدمات بحال نہ کئے جانے کے سبب آرٹی سی کی آمدنی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے اور جن لوگوں نے تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں بسیں کرایہ پر لگائی ہیں ان لوگوں کے بقایاجات ادا نہ کئے جانے کے سبب اب ان لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ معاشی مسائل میں مبتلاء ہونے لگے ہیں اسی لئے اب وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ کارپوریشن میں چلائی جانے والی تمام بسیں کارپوریشن کی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ خانگی افراد بسیں خرید کر اسے کارپوریشن میں کرایہ پر لگاتے ہیں اور انہیں کارپوریشن کی جانب سے کرایہ اداکیا جاتا ہے ۔احتجاج کرنے والے بس مالکین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی افراد نے ان بسوں کو بینک سے فینانس پر حاصل کیا ہے اور کارپوریشن میں لگایا گیا ہے لیکن کارپوریشن کی جانب سے کرایہ کی عدم ادائیگی کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال کے سبب انہیں بینک کو ادائیگی کرنی پڑرہی ہے تاہم کارپوریشن کی جانب سے کرایہ کی ادائیگی نہ کئے جانے کے سبب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں چلائی جانے والی آر ٹی سی بسوں میں جو کرایہ کی بسیں چلائی جار ہی ہیں ان بسوں کے مالکین کا کہنا ہے کہ انہیں لاک ڈاؤن سے قبل سے کرایہ کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے اور انہیں اب تک 9ماہ کے کرایہ اداشدنی ہے جس کی وجہ سے انہیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ آر ٹی سی ذرائع کے مطابق بس مالکین کے کرایوں کی اجرائی کے سلسلہ میں کارپوریشن کے عہدیداروں نے حکومت کو فائل روانہ کردی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اب تک اس سلسلہ میں کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب تک ان بس مالکین کے کرایوں کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ احتجاجی مالکین نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے آر ٹی سی ہڑتال کے دوران بھی بسوں کے کرایوں کی عدم اجرائی کے ذریعہ مالکین کی مشکلات میںاضافہ کیا گیا تھا اور انہیں ان مشکلات کے سبب اپنے دیگر اثاثوں کو فروخت کرتے ہوئے بینکوں کے بقایاجات ادا کرنے پڑے تھے ۔