آر ٹی سی میں 17 ہزار ملازمین کی گھر واپسی کی تیاریاں!

   

وی آر ایس سی آر ایس کے ذریعہ نقصان سے بچانے کا دعوی
حیدرآباد یکم / ستمبر ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں سرکاری ملازمتوں پر تقررات کی بڑے پیمانے پر جہاں ایک طرف کو پنشن جاری ہیں تو دوسری طرف موجودہ ملازمین کی برخواستگی کے اقدامات کا بھی عملاً آغاز ہوچکا ہے ۔ نقصانات اور افرادی قوت کی زیادہ تعداد کے نام پر محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن سے 17 ہزار ملازمین کو برخواست کرنے کی حکمت عملی پر غور کیا جارہا ہے ۔ وی آر ایس اور سی آر ایس اسکیمات کے تحت بازآبادکاری کی آڑ میں ملازمین کو گھر روانہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ آر ٹی سی میں سخت ترین اقدامات کیلئے ایسا سمجھا جارہا ہے کہ ایک سخت ترین آفیسر کو یہاں مقرر کیا گیا ۔ حالیہ آئی پی ایس تبادلوں میں وی سی سجنار کو ایم ڈی کے عہدے کی ذمہ داری اس منصوبہ پر عمل آوری کیلئے آسانی پیدا کرنے کی گئی آر ٹی سی کو نقصانات سے بچانے کا واحدراستہ ملازمین کی تخفیف تصور کیا جارہا ہے اور ضرورت سے زیادہ اسٹاف کی موجودگی کو بنیاد بنایا جارہا ہے اور ملازمین کو وی آر ایس اور سی آر ایس پر روانہ کرنے کی تمام تر تیاریاں اور پایلسی کو تیار کرلیا گیا ہے اور اب عمل آوری کے اقدامات کا امکان ہے ۔ عنقریب آغاز ہوگا ۔ آر ٹی سی میں وی ار ایس کے ذریعہ 58 سال کی عمر مکمل کرنے والے 6064 ملازمین کو روانہ کیا جاسکتا ہے اور ان تمام کیلئے عام ریٹائرمنٹ سہولیات کو فراہم کرنے اکاونٹس سٹلمنٹ کرنے کی گنجائش پر رپورٹ تیار کی جارہی ہے ۔ بالخصوص آر ٹی سی میں بھاری تنخواہ حاصل کرتے ہوئے اس طرح کی خدمات انجام نہ دینے والوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ ڈرائیورس، کنڈکٹرس اور میکانکس کی تفصیلات کو حاصل کیا جارہا ہے جو بھاری تنخواہیں حاصل کرتے ہیں ۔ اس طرح ریاست کے 97 بس ڈپوز میں خدمات انجام دینے والے اعلی سطح کے عہدیداروں کی تفصیلات بھی فراہم کی جارہی ہے ۔ جنہیں وی آر ایس سی آر ایس اسکیمات کے ذریعہ گھر واپسی کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ ادیرے میں 34 سال سے خدمات انجام دینے والے یا پھر 55 سال عمر کی تکمیل کو پہونچنے والے گیارہ ہزار ملازمین کیلئے سی آر ایس عمل کرنے کے امکانات ہیں ۔ وی آر ایس اور سی آر ایس کی عمل آوری کے ذریعہ آر ٹی سی کے مالی بوجھ کو ماہانہ 80 کروڑ تک کم کرنے کی سفارشات تیار کی گئی ہے ۔ 6 سال سے 8 سال تک سرویس میں موجودہ ملازمین کیلئے سی ار ایس عمل کرنے سے آر ٹی سی پر تقریباً 2 کروڑ تا 3 کروڑ کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا ۔اس دوران آر ٹی سی کی جانب سے جائیدادوں کو فروخت کرنے کابھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نقصان کی آڑ میں جائیدادوں کی فروخت خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے ۔ آر ٹی سی میں موجودہ فاضل مقامات جسے ڈپوز کے قریب موجودہ اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے آمدنی حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ آر ٹی سی میں فی الحال 49,250 ملازمین مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ جن میں 18,432 ڈرائیورس اور 29229 کنڈکٹرس شامل ہیں ۔ تاہم اس موقع پر بسوں سے زیادہ تعداد میں عملہ کی تعداد پائی جاتی ہے ۔ جبکہ پرانی اور قدیم بسوں کو ہٹانے کی مہم کے تحت 9184 کے منجملہ 3250 سے زائد بسوں کو ہٹادیا گیا ۔ جس کے سبب ڈرائیورس کا کام متاثر ہوا ہے اور وہ ڈپوز میں وقت گذاری پر مجبور ہیں ۔ جبکہ چند ایکسپریس بسوںکا استعمال کیا جارہا ہے ۔ جس کے سبب کنڈاکٹر کی ضرورت نہیں رہی ۔ یہ بھی ایک وجہ ملازمین کی تعداد سے زیادہ زیادتی کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ قبل ازیں ایک بس کی کامیاب کارکردگی کیلئے اعلی دیکھ بھال و دیگر ضروریات کیلئے 5 افراد درکار تھے ۔ لیکن اب یہ تعداد 8 تک پہونچی ہے ۔ A