آر ٹی سی ڈرائیور کی خودکشی سرکاری قتل کے مترادف

   

ملازمین کو ناامید یا پریشان نہ ہونے اپوزیشن قائدین کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکتوبر (این ایس ایس) تلنگانہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال میں شامل کھمم سے تعلق رکھنے والے ایک ڈرائیور سرینواس ریڈی کی گزشتہ روز خودسوزی اور آج شہر کے ایک خانگی ہاسپٹل میں موت کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔وہ بھونگیر کے کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے سرینواس ریڈی کی خودکشی کو سرکاری قتل قرار دیااور آر ٹی سی ملازمین سے کہا کہ وہ اپنے مستقبل یا روزگار کے بارے میں پریشان نہ ہوں کیونکہ یہ ملازمتیں صرف انہی کی ہیں اور کسی کی نہیں ہیں۔سنگا ریڈی کے کانگریس رکن اسمبلی تورپو جیہ پرکاش ریڈی عرف جگا ریڈی نے سرینواس ریڈی کی موت پر کانگریس کی طرف سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ کانگریس اس المناک لمحہ میں غمزدہ خاندان کے ساتھ ہے۔ ریاستی بی جے پی کے صدر کے لکشمن نے آر ٹی سی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ مایوس یا ناامید نہ ہوں بلکہ اپنا حوصلہ برقرار رکھیں۔ آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر اشواتما ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت اس ڈرائیور کی موت کی ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے ہاسپٹل کے باہر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی سی یونینوں کی طرف سے شروع کردہ جدوجہد کا کوئی حل برآمد نہ ہونے کے سبب سرینواس ریڈی نے حالت مایوسی میں خودکشی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت خودکشی اس جدوجہد کا حل نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزراء کے بیانات آر ٹی سی ورکرس کو مشتعل کر رہے ہیں۔ سی پی آئی کے سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی ، سی پی ایم کے سکریٹری ای ویرا بھدرم ، تلنگانہ جنا سمیتی کے کنوینر کودنڈا رام اور دیگر قائدین نے کنچن باغ کے اپولو ہاسپٹل پہنچ کر نعش کا دیدار کیا اور پیر کو کھمم بند منانے کا اعلان کیا ۔