ہڑتالی ملازمین کی حمایت میں اب اساتذہ بھی شامل
حیدرآباد۔29اکٹوبر(سیاست نیوز) مطالبات کی منظوری اور داخلی مسائل کے حل کے مطالبہ اور آر ٹی سی کو خانگیانے سے بچانے کے لئے کی جانے والی آرٹی سی ہڑتال نے ایک نئی تاریخ بنائی ہے ۔آرٹی سی کو خانگیانے سے بچانے کے لئے سال 2001ماہ اکٹوبر 15سے شروع ہونے والی ہڑتال 7 نومبر تک جاری رہی جو کہ 24 یوم تک رہی لیکن اس مرتبہ جو ہڑتال جاری ہے اس کے 25 یوم ہوچکے ہیںاور اب تک ہڑتال کے خاتمہ کے کوئی آثار نہیں ہیں۔علحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک کے دوران کی جانے والی عام ہڑتال میں آرٹی سی کی ہڑتال 27یوم جاری رہی اور آج تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے ہڑتال پرجاری مقدمہ میں یکم نومبر کو آئندہ سماعت مقرر کئے جانے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جاریہ ہڑتال تحریک تلنگانہ کے دوران کی جانے والی ہڑتال سے بھی تجاوز کرجائے گی۔ تلنگانہ آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 5اکٹوبر کو شروع کی جانے والی یہ ہڑتال اب تک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور ہڑتال کے دوران آر ٹی سی کو مختلف محکمہ جات کی یونینوں کی تائید کے علاوہ اساتذہ کی تائید بھی حاصل رہی ۔ تلنگانہ میں جاری اس ہڑتال کے سلسلہ میں ملازمین کا کہنا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو کے دور حکومت میں جو حالات پیدا ہوئے تھے وہی صورتحال اب پیدا ہوئی ہوئی اور حکومت کی جانب سے جو رویہ اختیار کیا گیا ہے وہ بھی اسی طرح مخالف ملازم اور آمرانہ ہے ۔ سال 2001 کے بعد صرف آرٹی سی کی جانب سے کی جانے والی یہ طویل مدتی ہڑتال ہے اور یکم نومبر تک ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں تحریک تلنگانہ کی عام ہڑتال سے بھی یہ ہڑتال تجاوز کرجائے گی۔