آر ٹی سی کو خانگیانے کا مسئلہ ، پیر کو مقدمہ کی سماعت

   

رہنمایانہ خطوط پیش کرنے حکومت اور درخواست گزار کو عدالت کی ہدایت
حیدرآباد۔14نومبر(سیاست نیوز) آر ٹی سی کی 5100روٹس کو خانگیانے حکومت کے فیصلہ کے خلاف درخواست کی سماعت کے بعد آئندہ سماعت ہائی کورٹ نے پیر کو مقرر کی گئی ہے ۔تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت سے استفسار کیا کہ وہ 5100 روٹس کو خانگیانے کے فیصلہ سے واقف کروائے اور جو قرار داد منظور کی گئی ہے وہ عدالت میں پیش کی جائے۔ ہائی کورٹ میں پروفیسر وشویشور ریڈی نے درخواست داخل کرکے عدالت سے خواہش کی تھی کہ وہ حکومت کو ایسا کرنے سے باز رکھے۔ عدالت نے کابینہ کے فیصلہ پر حکم التوا جاری کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کردیا تھا اور حکومت کی جانب سے عدالت سے حکم التواء برخواست کرنے کی درخواست کی گئی تھی لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا اور عدالت کا حکم التواء برقرار ہے۔ ہائی کورٹ نے آج سماعت کے دوران آرٹی سی کی 5100 روٹس کو خانگیانے کے فیصلہ کی وجوہات اور اس سے فوائد کے متعلق استفسار کیا اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ خانگیانے کی پالیسی کے تمام نکات اور امور جو طئے کئے گئے ہیں انہیں عدالت میں پیش کرے۔ پروفیسر وشویشور راؤ نے بتایا کہ کابینہ کے فیصلہ کے نتیجہ میں آرٹی سی ملازمین کی ملازمتیں خطرہ میں پڑسکتی ہیںاسی لئے کابینہ اور حکومت کے اس فیصلہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جانا چاہئے ۔عدالت نے حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ کابینہ کے فیصلہ کو مخفی کیوں رکھا گیا ہے ان امور کو عوام اور آرٹی سی کو واقف کروایا جانا چاہئے ۔ حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب اس منصوبہ پر عمل آوری کا آغاز کیا جائے گا تو تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔ عدالت نے حکومت اور درخواست گذار کے وکیل کے دلائل کی سماعت کے بعد حکومت کے وکیل کو ہدایت دی کہ وہ تمام تفصیلات اور رہنمایانہ خطوط عدالت میں پیش کریں اور مقدمہ کی آئندہ سماعت 18 نومبر پیر منعقد کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کا جائزہ لینے کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کیا جائیگا۔ عدالت نے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے مقدمہ کی سماعت 19 نومبر بروز منگل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔