دستورپر حلف کے باوجود غیر دستوری حکمرانی، آر ٹی سی ملازمین سے مذاکرات کا مطالبہ
حیدرآباد۔/19 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن کونسل جیون ریڈی نے الزام عائد کیا کہ آر ٹی سی کو خانگیانے کی سازش کے تحت چیف منسٹر بار بار نقصانات کا حوالہ دے رہے ہیں۔ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی تائید میں بائیک ریالی میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ دستور پر حلف لینے والے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ دستور کے خلاف کام کرتے ہوئے حکمرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ تحریک میں عام ہڑتال کے سبب علحدہ ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر خاندانی حکمرانی چلارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے اثاثہ جات کی مالیت 50 ہزار کروڑ سے زائد ہے اور حکومت انہیں خانگی اداروں کے حوالے کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ جیون ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں نئے وائر بسوں کی خریدی کیلئے پرائیویٹ فینانس ادارے 90 فیصد قرض جاری کرنے کیلئے تیار ہیں۔ آر ٹی سی میں 6000 سے زائد جائیدادیں مخلوعہ ہیں لیکن حکومت نے انہیں پُر کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے ریاست پر قرض کا بوجھ 2 لاکھ 50 ہزار کروڑ ہوچکا ہے۔
جیون ریڈی نے کہا کہ آر ٹی سی کو نقصانات سے اُبھارنے کا واحد راستہ ادارہ کا حکومت میں انضمام ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس مطالبہ کے ساتھ برقرار ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ حکومت کو آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات بہر صورت قبول کرنے ہوں گے ورنہ کے سی آر حکومت کے زوال کا آغاز ہوجائے گا۔