اثاثہ جات اور اراضیات چیف منسٹر کے قریبی افراد کو الاٹ کرنے کی تیاریاں
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر آر ٹی سی کو خانگیانے کا منصوبہ رکھتے ہیں جس کا اظہار انہوں نے کل عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں کیا ہے۔ آر ٹی سی بسوں کو تین زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے کے سی آر 50 فیصد بسوں کو خانگیانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ مکمل خانگیانے کی سمت پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے یونین کے نمائندوں سے بات چیت تک نہیں کی ۔ تلنگانہ میں کے سی آر کی آمرامہ اور مطلق العنان حکمرانی کے سبب عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کو اس لئے بھی غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ انہوں نے 35 دن قبل ہڑتال کی نوٹس دی تھی۔ حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ یونین کو بات چیت کیلئے مدعو کرتی بجائے اس کے ہڑتال کے آغاز کے ساتھ ہی تقریباً 50 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کی دھمکی دی گئی۔ چیف منسٹر کا یہ فیصلہ جمہوریت کے خون کے مترادف ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں کسی بھی ریاست میں ہڑتال کرنے پر اس قدر بڑی تعداد میں ملازمین کو برطرف نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کو نقصانات سے اُبھارنے کے بجائے کے سی آر خانگی شعبہ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ آر ٹی سی کے اثاثہ جات اور اس کی اراضیات چیف منسٹر کے قریبی افراد کے حوالے کی جائیں گی اور اس کارروائی کا بعض اضلاع میں آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہڑتالی ملازمین کے مطالبات کی تائید کرتی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے دوسرے سرکاری ملازمین اور عوام سے اپیل کی کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کی تائید کریں تاکہ حکومت ان کے خلاف کارروائی میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف دیگر سرکاری ملازمین کو بھی متحدہ جدوجہد کیلئے تیار ہونا چاہیئے۔