آر ٹی سی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار ، عدالت کو حکومت سے گمراہی

   

آر ٹی سی اور حکومت کو مدلل جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت ، آئندہ سماعت 7 نومبر کو مقرر
حیدرآباد۔یکم۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عدالت کو گمراہ کر رہی ہے اور غلط اعداد و شمار ہی نہیں بلکہ بغیر حساب کے اعداد و شمار عدالت میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس تلنگانہ نے گذشتہ سماعت کے دوران منیجنگ ڈائریکٹر آرٹی سی اور فینانس سیکریٹری کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی تھی اور اس بات کی تاکید کی گئی تھی کہ آرٹی سی کو اداشدنی اور بقایاجات کے علاوہ اب تک ادا کی گئی رقوما ت کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں لیکن آج جب عدالت میں حکومت اور آرٹی سی کی جانب سے دونوں آئی اے ایس عہدیداروں نے رپورٹ پیش کی تو عدالت نے رپورٹ میں درج کئے گئے حساب پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس کے مفصل جواب عدالت میں پیش کریں ۔عدالت نے آر ٹی سی اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ جلد اپنا جوابی حلف نامہ داخل کریں اور اس مقدمہ کی آئندہ سماعت عدالت نے 7نومبر کو مقرر کی ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے عہدیداروں کی جانب سے پیش کئے گئے حساب اور رپورٹ پر ان کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ یہ اعدادو شمار درست ہیں ! اگر درست ہیں تو حساب کیوں برابر نہیں ہے!آر ٹی سی منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر سنیل شرما نے عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی سی کو سال 2015-16اور 2016-17 کے دوران 336.40کروڑ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذریعہ ادا کئے گئے لیکن اب جی ایچ ایم سی کے معاشی حالات بھی بہتر نہیں ہیں اسی لئے جی ایچ ایم سی کے ذریعہ فنڈس کا حصول بھی ممکن نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے داخل کردہ رپورٹ میںآرٹی سی کو فراہم کئے جانے والے قرضہ جات کے ذکر پر بھی عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزل اور دیگر ادائیگیوں کے لئے جب حکومت کی جانب سے سبسیڈی فراہم کی جارہی ہے تو پھر کن بنیادوں پر حکومت کی جانب سے آرٹی سی کو قرض فراہم کیا گیا ہے! عدالت نے استفسار کیا کہ جب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دو سال سے کوئی رقم آر ٹی سی کو ادا نہیں کی گئی ہے تو ایسی صورت میں اسے بقایاجات کیوں تصور نہیں کیاجانا چاہئے !حکومت اور آر ٹی سی کی جانب سے کوئی مفصل اور اطمینان بخش جواب نہ دیئے جانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت کے دوران جوابی حلف نامہ معہ مکمل تفصیلات داخل کیا جائے ۔عدالت میں حکومت اور آرٹی سی کی جانب سے داخل کئے گئے حلف نامہ پر صدرنشین آرٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی مسٹر اشواتھاما ریڈی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے فرضی اور جھوٹ پر مبنی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے جسے ملازمین کی جانب سے چیالنج کیا جائے گا کیونکہ حکومت اور آر ٹی سی نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔مسٹر اشواتھاما ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت عوام اور عدالت کو گمراہ کررہی ہے اور ملازمین کو ہراساں کر تے ہوئے جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہے۔