بھٹی وکرمارکا کا الزام،چیف منسٹر ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کریں
حیدرآباد۔7 ۔ اکتوبر ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے الزام عائد کیا کہ چندر شیکھر راؤ آر ٹی سی کو ختم کرتے ہوئے اس کے اثاثہ جات اپنے قریبی افراد کے حوالہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کی اراضیات پر پٹرول پمپس کے قیام کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور چیف منسٹر اپنے قریبی افراد کو یہ اراضی الاٹ کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے آر ٹی سی ہڑتال سے نمٹنے کے سلسلہ میں کے سی آر پر آمرانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے رویہ کے سبب آر ٹی سی ملازمین ہڑتال کیلئے مجبور ہوئے ہیں۔ ملازمین نے مطالبات کے حل کے لئے حکومت کو نوٹس دی تھی ، اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ چیف منسٹر نے گزشتہ 6 برسوں میں جو وعدے کئے ، ان کی تکمیل چاہتے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں آر ٹی سی کے نقصانات کا الزام عائد کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ آر ٹی سی کی جانب سے حاصل کئے جارہے ڈیزل پر ویاٹ میں اضافہ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ بس پاس کی رعایتوں کو حکومت ادا کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایک لیٹر ڈیزل پر 20 روپئے ٹیکس عائد ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں آر ٹی سی کے نقصانات میں اضافہ ہوا ۔ ڈیزل کی خریدی کے سبب آر ٹی سی کو 400 کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ آر ٹی سی کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ عہدیداروں پر مشتمل سب کمیٹی تشکیل دیتی لیکن کے سی آر ایسا کرنے تیار نہیں ۔ ان کا مقصد آر ٹی سی کو خانگی شعبہ کے حوالہ کرنا اور اثاثہ جات قریبی افراد میں تقسیم کرنا ہے ۔48,000 ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ غیر جمہوری اور غیر انسانی ہے ۔ یہ وہی ملازمین ہیں جنہوں نے تلنگانہ تحریک کو کامیاب بنایا اور نئی ریاست کی تشکیل کی راہ ہموار کی ۔ سی ایل پی لیڈر نے کہا کہ آندھراپردیش کی طرح تلنگانہ میں آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے مطالبات جائز ہیں لیکن حکومت کا ہٹ دھرمی کا رویہ ان کے مسائل کی سماعت کیلئے تیار نہیں ہے ۔ سابق میں حکومتوں نے آر ٹی سی کو نقصانات سے بچانے کیلئے خصوصی فنڈس جاری کئے تھے ۔ بھٹی وکرمارکا نے بتایا کہ ورنگل اور بعض دیگر علاقوں میں آر ٹی سی کے اثاثہ جات کو خانگی افراد کے حوالے کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ملک کی دیگر ریاستوں میں آر ٹی سی کی عدم موجودگی کا بہانہ بناکر اس قدیم ادارہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ کی صورتحال دیگر ریاستوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آر ٹی سی کے 5000 کروڑ کے نقصانات کی پابجائی سے انکار کرنے والے کے سی آر آئندہ تین برسوں میں 6 لاکھ کروڑ کے ریاست کے قرض کو کس طرح ادا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں کسی بھی حکومت نے ملازمین کے خلاف اس طرح کی انتقامی کارروائی نہیں کی ۔