اپوزیشن پر الزام تراشی افسوسناک، تلگو دیشم قائد چندر شیکھرریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 18 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلگو دیشم پارٹی کے پولیٹ بیورو رکن آر چندر شیکھر ریڈی نے کہا کہ آر ٹی سی کے انچارج مینجنگ ڈائرکٹر سنیل شرما کے خلاف گورنر سے نمائندگی کی جائے گی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چندر شیکھر ریڈی نے کہا کہ ایک آئی اے ایس عہدیدار کی جانب سے اپوزیشن پر الزام تراشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں حلفنامہ داخل کیا گیا ۔ تاکہ آر ٹی سی ہڑتال کو غیر قانونی ثابت کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ارکان اسمبلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت میں تلنگانہ میں اپوز یشن کو غیر مستحکم کردیا ہے۔ کانگریس، تلگو دیشم اور دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کو انحراف کے ذریعہ ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی آئی اے ایس عہیدار کی جانب سے سیاسی جماعتوں پر الزام تراشی ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنیل شرما نے اپنے حلفنامہ کے ذریعہ حکومت کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ چندر شیکھر ریڈی نے کہا کہ آندھراپردیش میں جگن موہن ریڈی حکومت کی مدد کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اسے تلنگانہ حکومت کی تائید کرنے والے عہدیداروں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح جگن نے آئی اے ایس عہدیداروں کو اچانک اہم عہدوں سے ہٹا دیا ۔ کچھ یہی حال تلنگانہ کے عہدیداروں کا ہوگا جو کے سی آر حکومت کی تائید کر رہے ہیں۔ تلگو دیشم قائد نے آر ٹی سی جے اے سی کے احتجاجی پروگرام سڑک بند کی تائید کا اعلان کیا اور کہا کہ کل 19 نومبر کو تمام اضلاع میں تلگو دیشم قائدین اور کارکن احتجاج میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی جے اے سی قائدین کو غیر جمہوری انداز میں گرفتار کیا گیا جبکہ وہ اپنے جائز مطالبات کے لئے بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پولیس کے ذریعہ احتجاج کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چندر شیکھر ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جے اے سی قائدین کو مذاکرات کیلئے مدعو کرے کیونکہ انہوں نے آر ٹی سی کو ضم کرنے کے اصل مطالبہ سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔