آر ٹی سی کے نقصانات کیلئے ملازمین تو ریاست کے قرض کیلئے کون ذمہ دار؟

   

بی جے پی رکن پارلیمنٹ بی سنجے کا سوال، نقصانات سے بچانے میں ناکامی پر کے سی آر استعفیٰ دیں
حیدرآباد۔28 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بی سنجے نے آر ٹی سی ہڑتال سے نمٹنے میں کے سی آر حکومت پر ناکامی کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کو نقصانات کا بہانہ بناکر اسے خانگیانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ریمارک کیا کہ جب آر ٹی سی کو قرض کے باعث بند کیا جارہا ہے تو پھر قرض میں ڈوبی ہوئی ریاست کا کیا کریں گے ۔ اس کا جواب چیف منسٹر کو دینا چاہئے ۔ ایک لاکھ 25 ہزار کروڑ سے زائد کا قرض تلنگانہ ریاست پر ہے جس کے لئے کے سی آر ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ایک سال میں کے سی آر نے دیہی ترقی کیلئے رقومات جاری نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ فنڈس بھی تلنگانہ میں استعمال نہیں کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ فینانس کمیشن کی جانب سے جاری کردہ فنڈس کے بارے میں تلنگانہ حکومت کا رویہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ ترقیاتی فنڈس کی اجرائی کے لئے چیف منسٹر پر دباؤ ڈالیں۔ کسی بھی اسمبلی حلقہ کے لئے ترقیاتی فنڈس کی اجرائی کمزور مالی موقف کا بہانہ کرتے ہوئے روک دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر سرکاری اداروں کو خانگیانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ متحدہ آندھراپردیش میں وزیر ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے کے سی آر آر ٹی سی کو منافع بخش ادارہ میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن تلنگانہ کے چیف منسٹر کی حیثیت سے آر ٹی سی کو نقصانات سے ابھارنے میں وہ ناکام کیوں ہیں ، اس کی وضاحت عوام سے کی جائے۔ بی سنجے نے آر ٹی سی کے نقصانات کے لئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ آر ٹی سی کو بچانے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کے سی آر کو فی الفور عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے ۔ خانگی کنٹراکٹرس سے ملی بھگت کے ذریعہ آر ٹی سی کو خانگیانے کا منصوبہ ہے تاکہ بھاری رقومات حاصل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے نقصانات کی سزا جب ملازمین کو دی جارہی ہے تو پھر ریاست کے قرض کے لئے ذمہ دار کے سی آر کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے ۔ انہوں نے آر ٹی سی ہڑتال کے بارے میں کے سی آر کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران آر ٹی سی ملازمین سے کئے گئے وعدے فراموش کرتے ہوئے کے سی آر غرور اور تکبر کی زبان میں بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کا خاتمہ ہو یا نہ ہو لیکن کے سی آر حکومت کا جلد خاتمہ یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی فصل بیمہ یوجنا پر تلنگانہ میں عمل کیا جاتا تو کسان بھاری نقصانات سے بچ جاتے۔