آر ٹی سی ہڑتالی ملازمین کی گورنر سے ملاقات

   

بات چیت پر آمادگی کا اظہار ، عدالت کے ریمارکس کا حوالہ
حیدرآباد۔21اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ہڑتالی ملازمین نے راج بھون میں گورنر تلنگانہ ڈاکٹر تمیلی سائی سوندارجن سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے خواہش کی کہ وہ ملازمین کی ہڑتال میں مداخلت کرتے ہوئے حکومت کو ہدایات جاری کریں۔ ٹی آر ایس ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین نے آج ایک مرتبہ پھر سے گورنر تلنگانہ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں تازہ صورتحال سے واقف کروایا اور عدالت کی جانب سے کئے جانے والے ریمارکس کے حوالہ سے بتایا کہ عدالت نے حکومت اور آرٹی سی انتظامیہ کو ملازمین سے بات چیت کی ہدایت دی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے بات چیت میں پہل نہیں کی جا رہی ہے جبکہ ہڑتالی ملازمین نے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ گورنر ڈاکٹر تمیلی سائی سونداراجن نے جے اے سی قائدین سے تفصیلی بات چیت کے بعد کہا کہ وہ ملازمین کی ہڑتال کے سلسلہ میں مرکزی و ریاستی حکومت سے رابطہ میں ہیں اور ہڑتال کو ختم کروانے کیلئے بات چیت کے عمل کو شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ گورنر نے معاملہ میں مداخلت کے سلسلہ میں مثبت انداز میں آر ٹی سی ملازمین کو تیقن دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو اس جانب سے متوجہ کریں گی ۔ جے اے سی قائدین نے گورنر سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے آمرانہ رویہ کے سلسلہ میں جے اے سی نے گورنر کو حقیقی صورتحال سے واقف کرواتے ہوئے اس بات کی خواہش کی ہے کہ ہڑتالی ملازمین کی جانب سے کی گئی مطالبات کی فہرست کی یکسوئی کے سلسلہ میں وہ حکومت سے مذاکرات کا آغاز کروائیں کیونکہ عدالت کی جانب سے ہدایت کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ آئندہ سماعت کیلئے ابھی وقت ہے اور آرام سے بات چیت کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔ جے اے سی قائدین نے حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کو مخالف ملازم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی صورتحال آندھرائی حکمرانو ںکے دور میں بھی پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن موجودہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے جو حالات پیدا کئے ہیں اس پر عدالت نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اس کے باوجد ملازمین کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ظالمانہ رویہ احتیار کیا جا رہاہے۔ جے اے سی قائدین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم یکسوئی پر جے اے سی اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کرے گی اور ریاست میں موجود دیگر محکمہ جات کے ملازمین اور یونینوں سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔