دسہرہ کی گہما گہمی بھی نہیں ، ہول سیل تاجر متفکر ، مہنگائی سے بازار میں مندی ریکارڈ
حیدرآباد۔6اکٹوبر(سیاست نیوز) آر ٹی سی ہڑتال کے سبب دونوں شہروں کی تجارت بری طرح سے متاثر ہے اور ہڑتال کے دویوم کے دوران ہی شہر پہنچنے والے اضلاع کے تاجرین جو کہ بسوں کے ذریعہ شہر کا رخ کرتے تھے وہ پہنچنے سے قاصر رہے جس کے سبب دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآبادہول سیل تاجرین جو کہ اس توقع میں تھے کہ دسہرہ تہوار کی خریداری کیلئے لوگ شہر کا رخ کریں گے اور اضلاع میں تجارت کرنے والے تاجرین دسہرہ کے قریب شہر کے بازاروں کا رخ کرنے کا جو منصوبہ تیار کئے ہوئے تھے اب وہ بھی شہر نہیں پہنچ پا رہے ہیں جس کے سبب شہر کے بازاروں میں دسہرہ کی گہما گہمی نظر نہیں آرہی ہے اور نہ ہی بازاروں میں ہجوم ہے۔ پتھر گٹی اور پٹیل مارکٹ کے تاجرین کا کہناہے کہ بازار میں پائی جانے والی مندی کے دوران یہ توقع تھی کہ دسہرہ کے موقع پر بازار میں کچھ بہتری رونما ہوگی لیکن اچانک بسوں کی ہڑتال کے سبب صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے اور بازاروں میں چہل پہل بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ تاجرین کا کہناہے کہ ہر سال دسہرہ کے قریب اضلاع سے بڑی تعداد میں تاجرین شہر حیدرآباد کا رخ کرتے ہوئے ہوئے خریداری کیا کرتے تھے اور تاجرین کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی جو شہر کے قریبی اضلاع سے تعلق رکھتے تھے وہ ان بازاروں کو پہنچ کر خریداری کیا کرتے تھے لیکن تہوار کے عین قریب آر ٹی سی کی جانب سے کی گئی ہڑتال کے سبب کاروبار بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اب دسہرہ قریب ہونے کے سبب کوئی توقع بھی نہیں رہی کہ کاروبار میں بہتری ریکارڈ کی جائے گی کیونکہ دسہرہ سے پہلے کی آخری تعطیل یعنی اتوار کے بعد اب کوئی تعطیل نہیں کہ لوگ خریداری کے لئے وقت نکالیں۔ سلطان بازار ‘ سکندرآباد‘ پتھر گٹی اور پٹیل مارکٹ کے تاجرین کہنا ہے کہ آر ٹی سی ہڑتال کے سبب آر ٹی سی کو کتنا نقصان ہوا ہے اس کا اندازہ انہیں نہیں ہے لیکن ان کی اس ہڑتال کے سبب دسہرہ تہوار کے دوران تاجرین پارچہ کے علاوہ دیگر تاجرین کو کروڑہا روپئے کا نقصان ہوا ہے اور ان تاجرین کی نظریں اس تہوار پر مرکوز تھیں کیونکہ گذشتہ چند ماہ کے دوران مہنگائی کے سبب بازار میں مندی ریکارڈ کی جا رہی تھی اسی لئے اب یہ کہا جا رہا تھا کہ دسہرہ کے بعد بازار کی مندی دور ہوگی اور دیوالی تک کاروبار بہتر ہوتے چلے جائیں گے لیکن آر ٹی سی ہڑتال کے سبب تہوار کے دوران ریکارڈ کی جانے والی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے اور اس کے منفی اثرات کافی طویل مدت تک بازار پرنظر آتے رہیں گے۔