آر ٹی سی ہڑتال‘ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے پیسہ نہیں

   

ہائیکورٹ میں تنخواہوں کی اجرائی کے مقدمہ کی سماعت 29اکٹوبر تک ملتوی

حیدرآباد۔21اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت کے پاس آر ٹی سی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے پیسہ نہیں ہے۔ حکومت نے عدالت کی جانب سے گذشتہ سنوائی کے دوران پیر تک تنخواہوں کی اجرائی کے احکام کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا کہ آر ٹی سی کے پاس 7.5کروڑ روپئے ہیں جبکہ ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کیلئے 230کروڑ درکار ہیں۔ ہائی کورٹ نے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کے مقدمہ کی سماعت کو 29 اکٹوبر تک ملتوی کردیا ۔ سماعت کے دوران ملازمین کے وکیل نے حکومت کے جواز کو مسترد کیا اور کہا کہ جب ملازمین نے 5اکٹوبر تک خدمات انجام دی ہیں تو انہیں ماہ ستمبر کی تنخواہ کی اجرائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ گذشتہ سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل نے یہ کہا تھا کہ ہڑتال کے سبب تنخواہوں کی اجرائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور آر ٹی سی انتظامیہ پیر تک ملازمین کو تنخواہوں کی اجرائی کے اقدامات کو یقینی بنائے اور 21 اکٹوبر کو رپورٹ پیش کرے لیکن آج ایڈوکیٹ جنرل نے آر ٹی سی کو درپیش مالی بحران کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کے سبب آر ٹی سی معاشی حالت مزید ابتر ہوچکی ہے اور فوری تنخواہوں کی اجرائی ممکن نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ہڑتال کے دوران آرٹی سی کی جانب سے بسیں چلائے جانے کے جو دعوے کئے جا رہے ہیں اس کی آمدنی کہاں ہے!کیوں اس آمدنی کے ذریعہ ان ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی جاتی جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے وقت طلب کیا جس پر عدالت نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 29 اکٹوبر کو مقرر کرنے کا اعلان کردیا ۔ ملازمین کے وکیل نے صورتحال سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں کی عدم اجرائی کے سبب ملازمین معاشی بحران کا شکار ہونے لگے ہیں اور انہوں نے عدالت میں اب تک ڈرائیورس اور کنڈکٹر کی اموات کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ معاشی ابتری کے سبب آر ٹی سی ملازمین خودکشی کر رہے ہیں اس کے باوجود حکومت سے تنخواہوں کی ادائیگی کے بجائے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔