آر ٹی سی ہڑتال میں مرکزی حکومت گورنر کے ذریعہ مداخلت کرنے کوشاں

   

وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد آر ٹی سی جے اے سی چیرمین سے تفصیلات کا حصول
حیدرآباد۔16اکٹوبر(سیاست نیوز) آر ٹی سی ہڑتال میں مرکزی حکومت گورنر کے ذریعہ مداخلت کرے گی!گورنر تلنگانہ ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراجن نے گذشتہ یوم وزیر اعظم نریندر مودیاور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد آج آر ٹی سی کے ہڑتالی ملازمین کی تفصیلات حاصل کیں۔ بتایاجاتا ہے کہ گورنر تلنگانہ نے آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی صدرنشین مسٹر اشوتھاما ریڈی سے رابطہ قائم کرتے ہوئے آر ٹی سی کے متعلق مکمل تفصیلات حاصل کی ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ہڑتالی ملازمین کو اب آر ٹی سی کے ملازم تصور کرنے کے متعدد مرتبہ انکار کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس سلسلہ میں گورنر تلنگانہ نے دہلی کا دورہ کرتے ہوئے ہڑتال کی تفصیلات اور دیگر محکمہ جات کی جانب سے ہڑتال کو حاصل ہونے والی تائید اور آر ٹی سی ملازمین کی خودکشیوں کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کو واقف کروایا اور مفصل رپورٹ پیش کی ۔ ڈاکٹر تمیلی سائی سوندارجن کی جانب سے دورۂ دہلی کے فوری بعد ہڑتالی ملازمین کی جے اے سی صدرنشین سے تفصیلات دریافت کئے جانے کے بعد یہ سمجھا جا رہاہے کہ ہڑتال کے مختلف پہلوؤں کا مرکزی حکومت کی جانب سے جائزہ لیا جانے لگا ہے اور مرکز گورنر کے ذریعہ ہڑتال اور آر ٹی سی ملازمین کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں مداخلت کرے گا۔ آر ٹی سی ہڑتال کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے مطابق ماہرین کا کہناہے کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں اور ملازمین کے ساتھ ناانصافی کے سبب حالات قابو سے باہر ہوتے ہیں تو ایسی صور ت میں مرکزی حکومت گورنر کے ذریعہ ریاستی امور میں مداخلت کرتے ہوئے حالات کو قابو میں لانے کے اقدامات کا حق رکھتی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے پر آر ٹی سی ملازمین شدید دلبرداشتہ ہیں اور اب تک دو ملازمین نے خودکشی کرلی ہے اس کے علاوہ ایک ملازم کی دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہوچکی ہے اس کے علاوہ ایک ملازمہ کے شوہر کی حرکت قلب بند ہونے کے سبب موت واقع ہوئی ہے۔ گورنر کی جانب سے آر ٹی سی جے اے سی سے آر ٹی سی کی منظورہ جائیدادوں کے علاوہ دیگر تفصیلات کے حصول کے بعد یہ کہا جا رہاہے کہ ریاست میں جاری اس ہڑتال کو حاصل تمام سیاسی جماعتوں کی تائید کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت گورنر کے ذریعہ ہڑتالی ملازمین کے مفادات کے تحفظ کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کو ممکن بنائے گی۔