خاتون کنڈکٹر کی خود کشی کے ساتھ تاحال 12 اموات ، چیف منسٹر کے سی آر کے بیان سے ملازمین معاشی بحرانی کا شکار
حیدرآباد۔28 اکٹوبر(سیاست نیوز) آر ٹی سی ہڑتال پتہ نہیں اور کتنے ملازمین کی جان لے گی کیونکہ گذشتہ 26یوم کے دوران اب تک 12 آر ٹی سی ملازمین کی اموات واقع ہوچکی ہیں آج دن میں ایک خاتون کنڈکٹر نے پھانسی لیتے ہوئے خودکشی کرلی ۔آر ٹی سی کی جاریہ ہڑتال کے دوران حکومت کی جانب سے اختیار کردہ موقف پر ملازمین کی مختلف تنظیموں کی جانب سے بھی شدید برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے بلکہ حکومت اپنی ضد پر برقرارہے ۔آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کو ناکام کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے مختلف حربہ اختیار کئے گئے لیکن اس کے باوجود اب بھی ہڑتالی ملازمین اپنے موقف پر برقرار ہیں۔ہڑتالی ملازمین کو دیگر محکمہ جات کے ملازمین اور ان کی تنظیموں کی حاصل ہونے والی تائید کے سبب یہ ملازمین اب بھی ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ہڑتالی ملازمین کی اموات میں ہونے والے اضافہ سے آرٹی سی کے ہڑتالی ملازمین میں حکومت کے خلاف جذبات شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت نے حضور نگر انتخابات میں غیر معمولی کامیابی کے بعد آر ٹی سی کے وجود کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے آر ٹی سی کو قصہ ٔ پارینہ قرار دینے کی کوشش کی لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی اس کوشش میں انہیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی ہڑتالی ملازمین کے درمیان اختلافات کو ابھارنے میں وہ کامیاب ہوپائے جبکہ انہوں نے یونین قائدین کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ملازمین کوقریب کرنے اور ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے بھی کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوپائے ہیں۔تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ہڑتال کے سبب جو حالات پیدا ہوئے ہیںاور حکومت کی جانب سے از خود برطرفی کے الفاظ کے استعمال اور تنخواہوں کی اجرائی عمل میں نہ لائے جانے کے سبب ہڑتالی ملازمین معاشی بحران سے دوچار ہونے لگے ہیں اور ان حالات سے دلبرداشتہ ہوتے ہوئے بعض ملازمین نے خودکشی کی ہے اور کئی ملازمین قلب پر حملہ کے سبب فوت ہوچکے ہیں لیکن ان اموات کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے کوئی نرمی کا رویہ اختیار نہیں کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ایک ایسا کارپوریشن ہے جہاں پر 7000 سے زائد مسلم ملازمین خدمات انجام دیتے ہیں ریاست میں کسی اور کارپوریشن یا محکمہ میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان موجود نہیں ہیں۔