آر ٹی سی ہڑتال پر چیف منسٹر کا رویہ اور وزراء کی خاموشی

   

ٹی آر ایس میں موضوع بحث، سینئر وزراء پر مداخلت کیلئے دباؤ، کیشو راؤ چیف منسٹر سے مایوس

حیدرآباد۔22 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) آر ٹی سی ہڑتال کے مسئلہ پر چیف منسٹر کے سی آر کا رویہ اور ریاستی وزراء کی خاموشی برسر اقتدار ٹی آر ایس میں بحث کا موضوع بن چکی ہے ۔ ہڑتال کے آغاز کو 19 دن گزرنے کے باوجود چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر وزراء اور سینئر قائدین سے مشاورت کرنا گوارا نہیں کیا۔ ہڑتال میں شدت کے سبب حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی میں اضافہ ہورہا ہے لیکن کوئی بھی وزیر اور عوامی نمائندے اس مسئلہ پر کھل کر اظہار خیال سے گریز کر رہے ہیں۔ وزراء اور عوامی نمائندے آر ٹی سی ہڑتال کے بارے میں میڈیا کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں۔ شہر کے علاوہ اضلاع میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی نے ہڑتال کے آغاز کے بعد سے خود کو اپنی قیامگاہوں تک محدود کرلیا یا پھر حیدرآباد منتقل ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع میں آر ٹی سی ملازمین کے قائدین نے ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں سے ملاقات کی کوشش کی لیکن انہیں ناکامی ہوئی ۔ پارٹی میں اس بات کو لے کر بحث جاری ہے کہ آخر چیف منسٹر کے سخت گیر رویہ کی وجہ کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی تائید کے سبب ہڑتال سے دستبرداری کا امکان دکھائی نہیں دیتا ، اس کے باوجود چیف منسٹر ہڑتالی ملازمین سے بات چیت کے لئے بھی آمادہ نہیں ہیں۔ سینئر وزراء خاص طور پر ای راجندر ، ہریش راؤ اور کے ٹی راما راؤ کی خاموشی پر پارٹی کیڈر حیرت کا اظہار کر رہا ہے ۔ دراصل چیف منسٹر اس تنازعہ کی یکسوئی میں کسی وزیر کو شامل کرنا نہیں چاہتے ۔ ہڑتالی ملازمین کی یونینوں نے واضح کیا کہ اگر کے ٹی آر ، ہریش راؤ اور راجندر انہیں بات چیت کیلئے مدعو کریں تو وہ تیار ہیں لیکن چیف منسٹر نے کسی بھی وزیر کو یہ اختیار نہیں دیا ہے۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے حکومت اور ملازمین کے درمیان مصالحت کی کوشش کی تھی لیکن چیف منسٹر کی سردمہری سے انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی قائدین اور کیڈر کا احساس ہے کہ ہڑتال کو مزید طوالت دینے سے حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوگا۔ دیگر ملازمین بھی اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل اور کے سی آر کے چیف منسٹر بننے کے بعد 6 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب حکومت کے خلاف بڑی ہڑتال کی گئی۔ تلنگانہ تحریک میں شامل اہم شخصیتوں نے ہڑتال کی تائید کرتے ہوئے دیگر ملازمین سرکار کو آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات کے حق میں کھڑا ہونے کیلئے مجبور کیا۔ اسی دوران پارٹی کے مختلف گوشوں سے وزیر فینانس ہریش راؤ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ہڑتال کے خاتمہ کیلئے مداخلت کریں لیکن وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کی جانب سے ہدایت کے منتظر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آر ٹی سی ملازمین کی جے اے سی نے بھی ہریش راؤ سے توقعات وابستہ کی ہیں۔ جے اے سی کے قائدین نے ہریش راؤ سے ملاقات کی کوشش کی لیکن انہوں نے وقت نہیں دیا کیونکہ آر ٹی سی جے اے سی سے ملاقات کی صورت میں چیف منسٹر ناراض ہوسکتے ہیں۔ آر ٹی سی ملازمین نے تلنگانہ تحریک کے دوران ہریش راؤ کی جانب سے کئے گئے بیانات کا ویڈیو وائرل کیا جس میں انہوں نے سرکاری ملازمین کے مماثل تنخواہوں اور دیگر مراعات کا وعدہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزراء اور عوامی نمائندوں میں ہڑتال کو لے کر بے چینی بڑھتی جارہی ہے لیکن کسی میں ہمت نہیں کہ وہ چیف منسٹر کو اپنے جذبات سے واقف کرائے اور ہڑتال کے خاتمہ کا مشورہ دیں۔