عدالت سے متعدد تنبیہ بے اثر ہونے پر سخت فیصلہ کیے جانے کا امکان
حیدرآباد۔13نومبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے آرٹی سی ہڑتال کی یکسوئی کیلئے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے تین سابق سپریم کورٹ ججس پر مشتمل کمیٹی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1947ایکٹ کے مطابق تمام ملازمین کو کمپنی ایکٹ کے مطابق کام کرنا لازمی ہے لیکن ریاست میں آر ٹی سی ملازمین نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اسی لئے حکومت تلنگانے نے محکمہ لیبر کو قانونی کاروائی کی ہدایت دی ہے اسی لئے حکومت نہیں چاہتی کہ عدالت کی جانب سے کوئی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس سلسلہ پیشرفت کی جائے ۔ ہائی کورٹ نے گذشتہ یوم حکومت تلنگانہ سے سپریم کورٹ کے ججس پر مشتمل کمیٹی کے متعلق رائے ظاہر کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن آج حکومت نے عدالت میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اس بات کے حق میں نہیں ہے کہ کوئی کمیٹی آر ٹی سی مسئلہ کی یکسوئی کے سلسلہ میں اپنا کردار اداکرے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج مقدمہ کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آخر حکومت تلنگانہ آرٹی سی ہڑتال مسئلہ سے کس طرح نمٹنا چاہتی ہے!چیف جسٹس کی بنچ پر جاری سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے اپنے موقف کو پیش کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت لیبر قوانین کے ذریعہ ان ملازمین کی ہڑتال کے سلسلہ میں اقدامات کر رہی ہے اور حکومت کی جانب سے ہڑتال کے سبب عوام کو ہونے والی تکالیف کو دور کرنے کے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ تلنگانہ آرٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے گذشتہ یوم پیش کردہ تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے سابق ججس کی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیلئے ہڑتال ختم کرنے بھی تیار ہیں لیکن آج حکومت کی جانب سے داخل کئے گئے حلف نامہ کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا جائزہ لینے کے بعد ہی عدالت کی جانب سے کوئی احکام جاری کئے جانے کا امکان ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کے موقف پر عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے کوئی بھی سخت فیصلہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ عدالت کی جانب سے متعدد مرتبہ حکومت کو تنبیہ کئے جانے اور ہدایات دیئے جانے کے باوجود اب تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ درخواست گذار کے وکیل نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اختیار کئے گئے رویہ کے سبب اب تک 27 ملازمین کی اموت ہوچکی ہیں ۔