ریاپڈ اینٹی جین یا آر ٹی پی سی آر میں کورونا وائرس منفی کے باوجود مریضوں کی صحت متاثر
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کی علامات ہوں اور آرٹی پی سی آر میں منفی رپورٹ آنے کے باوجود مریض کے پھیپڑوں کی جانچ کی جانی ضروری ہے کیونکہ کورونا وائرس کی دوسری لہر میں یہ بات دیکھی جا رہی ہے کہ ریاپڈ اینٹی جین یا آر ٹی پی سی آر میں کورونا وائرس کے آثار نہ پائے جانے کے باوجودکئی مریضوں کی صحت میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے جس کی وجہ سے کئی مرتبہ مریضوں کی اموات بھی واقع ہونے لگی ہیں ۔ تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ڈاکٹرس نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں دوسری لہر کے دوران یہ خصوصیت دیکھی جانے لگی ہے کہ ریاپڈ اور پی سی آر ٹسٹ کے منفی آنے کے باوجود مریضوں کو سانس لینے میں تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ایچ آر سی ٹی کروانے کی صورت میں اس بات کا انکشاف ہورہا ہے کہ وائر س کے سبب مریض کے پھیپڑے متاثر ہونے لگے ہیں اور انہیں فوری وینٹیلیٹر یا آئی سی یو میں داخل کرنا پڑرہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ڈاکٹرس اور سائنسداں اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آخرمعائنہ کے دوران کورونا وائرس چکمہ دینے میں کس طرح کامیاب ہورہا ہے اور کیوں معائنہ منفی ریکارڈ کئے جانے کے باوجود پھیپڑے متاثر ہونے لگے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ سائنسدانوں کی جانب سے ایسے مریضوں کی حالت اور ان کی قوت مدافعت کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے کیونکہ اکثر مستحکم قوت مدافعت کی صورت میں معمولی اثرات ریکارڈ کئے جارہے ہیں اور حرارت اور ایک دن کی زکام کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا ہے لیکن جیسے جیسے دن گذررہے ہیں وائرس کے سبب مریض کے پھیپڑے متاثر ہونے لگ رہے ہیں جبکہ سال گذشتہ سردی ‘ زکام‘ بخار اور دیگر علامات مرحلہ وار انداز میں ریکارڈ کی جا رہی تھیں لیکن اب ایسا نہیں محسوس ہورہا ہے بلکہ کئی مریضوں کو ریاپڈ اینٹی جین اور آر ٹی پی سی آردونوں میں ہی منفی رپورٹ کے باوجود مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ڈاکٹرس جو کہ ابتداء سے ہی آر ٹی پی سی آر اور ریاپڈ اینٹی جین میں کسی ایک بھی معائنہ میں مثبت رپورٹ پائے جانے کی صورت میں ڈی۔ ڈائمر اور سی آرٹی کے علاوہ سی بی پی کے معائنہ کروارہے ہیں تاکہ خون میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھی جاسکے علاوہ ازیں ایچ آر سی ٹی کرواتے ہوئے متاثرین کے پھیپڑوں کی صورتحال سے آگہی حاصل کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال سے فوری اثر کے ساتھ نمٹنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔