مودی نے دیا بھارت چھوڑو کا نعرہ
نئی دہلی: جنگ آزادی کے دوران چلائی گئی ’بھارت چھوڑو‘ تحریک کی برسی کے موقع پر وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے دیگر قائدین نے ’بھارت چھوڑو‘ کا نعرہ لگایا ہے، جس پر انڈین نیشنل کانگریس نے سخت اعتراض کیا ہے۔ کانگریس نے سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ جنگ آزادی میں بی جے پی کا کیا تعاون تھا؟میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ بی جے پی اور بھارت چھوڑو کے درمیان کیا تعلق ہے؟ بی جے پی نے تحریک آزادی میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ بی جے پی مکمل طور پر تحریک آزادی کے خلاف ہے۔ ان کے یوم بھارت چھوڑو کے موقع پر کچھ کہنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے، ہم وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم پارلیمنٹ میں بھی نہیں آ رہے ہیں۔ وہ منی پور کی بات بھی نہیں کر رہے ہیں۔ بھارت چھوڑو تحریک اب ہمیں اسی (سامراج) حکومت کی یاد دلا رہی ہے۔دریں اثنا، کانگریس کے لوک سبھا رکن ششی تھرور نے بھی ٹوئٹر پر کہا کہ پارلیمنٹ میں گاندھی جی کے مجسمے کے قریب بی جے پی کے ارکان کو ’بھارت چھوڑو‘ نعرے لگاتے ہوئے دیکھنا ستم ظریفی ہے۔ 81 سال پہلے ان کے آباو اجداد کہاں تھے؟بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے لوک سبھا ایم پی مانیکم ٹیگور نے کہاکہ آر ایس ایس نے کبھی بھی ’بھارت چھوڑو تحریک’‘ میں حصہ نہیں لیا۔ آر ایس ایس کے سابق لوگوں کو اپنے فعل کیلئے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔ ایک سابق سنگھ پرچارک نریندر مودی کو بھارت چھوڑو پر زور دینے سے پہلے معافی مانگنی چاہیے۔ کانگریس قائدین کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں آئے جب بی جے پی نے چہارشنبہ کے روز اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ پر تازہ حملہ کرتے ہوئے اسے متکبر قرار دیا۔ وزیر اعظم مودی نے ایک ٹوئٹ میں اپوزیشن اتحاد پر حملہ کرتے ہوئے لکھاکہ ان عظیم لوگوں کو خراج عقیدت جنہوں نے ہندوستان چھوڑو تحریک میں حصہ لیا۔ گاندھی جی کی قیادت میں اس تحریک نے ہندوستان کو غیر ملکی راج سے آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج ہندوستان ایک آواز میں کہہ رہا ہے، کرپشن بھارت چھوڑو، کنبہ پروری بھارت چھوڑو اور خوشنودی بھارت چھوڑو۔
