آسام : این آر سی کی قطعی فہرست جاری، 19 لاکھ افراد کے نام خارج

,

   

ٹربیونل میں اپیل کیلئے 120 دن کی مہلت، شمولیت سے محروم افراد کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، حکومت کی وضاحت

گوہاٹی ۔ 31 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) آسام میں مسلمہ ہندوستانی شہریوں کی توثیق و تصدیق سے متعلق نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس کی قطعی جدید فہرست ہفتہ کو جاری کردی گئی ، جس کے بعد 19 لاکھ سے کچھ زائد افراد کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے جن کے نام اس نظرثانی شدہ فہرست میں نہیں پائے گئے ہیں ۔ آسام کے ریاستی این آر سی رابطہ کار کے دفتر نے بتایا گیا ہے کہ این آر سی میں اپنے ناموں کی شمولیت کیلئے 3,30,27,661 افراد نے درخواست دی تھی جن کے منجملہ اس اہم قومی دستاویز میں 3,11,21,004 افراد کے نام شامل کرلئے گئے اور 19,06,657 نام خارج قرار دیئے گئے ۔ تاہم ایسے افراد کو جن کے نام شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) سے خارج کئے گئے ہیں، انہیں بیرونی افراد کے ٹربیونل میں اس کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 120 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ حکومت آسام کسی بھی صورت میں ایسے افراد کو حراست میں رکھنے کے اندیشوں کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہے ، جن افراد کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ حکومت آسام یہ بھی وا ضح کرچکی ہے کہ ان افراد کے خلاف اس وقت تک کوئی قدم نہیں ا ٹھایا جا ئے گا جب تک خارجی باشندوں سے متعلق ٹربیونل انہیں بیرونی قرار نہیں دے دیتا ۔ این آر سی اتھاریٹی نے کہا ہے کہ قطعی فہرست آج شائع کردی گئی اور ناموں کی شمولیت کے ضمنی نقول عوام کے مشاہدہ کیلئے این آر سی کے سیوا کیندروں کے علاوہ ڈپٹی کمشنرس کے دفاتر اور سرکل افسران کے دفاتر پر رکھی گئی ہیں ۔ فہرست کی اجرائی کے فوری بعد سینکڑوں افراد متعلقہ دفاتر پر پہونچ گئے ۔ اکثر لوگ اپنے ناموں کی شمولیت پر خوشی کے ساتھ گھر واپس ہوئے اور چند افراد جن کے نام فہرست میں شامل نہیں، افسوس و مایوسی کے ساتھ چلے گئے۔

برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے علاوہ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (آسو) نے کہا ہے کہ شہریت کے قطعی اندراج پر انہیں مایوسی ہوئی ہے ۔ منگل دوئی کے سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ رامن ڈیکا نے کہا کہ بنگلہ دیش کے مسلم غیر قانونی مہاجرین کی کثیر تعداد اس فہرست میں ا پنے نام شامل کرواچکی ہے جبکہ متعدد مقامی افراد ناموں کی شمولیت سے محروم رہے۔ ڈیکا نے کہا، ’’ہمیں کوئی خوشی نہیں ہوئی ہے۔ بنگلہ دیشی مسلمانوں کی کثیر تعداد فہرست میں شامل ہوچکی ہے لیکن کئی حقیقی ہندوستانی شمولیت سے محروم رکھے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں یہ عمل مکمل کیا گیا لیکن (تیار شدہ) دستاویز پوری طرح درست نہیں ہے‘‘۔ بارپیٹا کے کانگریس رکن اسمبلی عبدالخالق نے کہا کہ وہ اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کئی حقیقی جائز نام چھوٹ گئے ہیں‘‘ ۔ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین جس نے اس ضمن میں 6 سال طویل تحریک چلائی تھی جس کا 1985 ء میں آسام سمجھوتے کے ساتھ اختتام عمل میں آیا تھا، اُس نے کہا کہ وہ بھی قطعی این آر سی سے خوش نہیں ہے اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔ سمجھوتہ کی ایک شق غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کی شناخت، تصدیق اور اخراج سے متعلق تھی۔ آسو جنرل سکریٹری لورین جیوتی گگوئی نے کہا: ’’ہم بالکل خوش نہیں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فہرست کو بہتر بنانے کے عمل میں چند نقائص رہ گئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نامکمل این آر سی ہے ۔ اس این آر سی میں موجود نقائص اور غلطیوں کے ازالے کیلئے ہم سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے‘‘۔ آسام کے وزیر ہیمنت بسوا شرما نے جو شمال مشرقی جمہوری اتحاد (نیڈا) کے کنوینر بھی ہیں، اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ ایسے کئی افراد جو 1971 ء سے قبل پناہ گزیں کی حیثیت سے ہندوستان آئے تھے، اُن کے نام این آر سی کی قطعی فہرست میں شامل نہیں کئے گئے ہیں۔