یو ڈی ایف کی جانب سے شدید مخالفت ۔ انتخابات سے قبل ہندو۔مسلم تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کا بی جے پی پر الزام
گوہاٹی : آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ( اے آئی ڈی یو ایف) نے آسام حکومت کی جانب سے مدرسوں کو بند کرنے کے فیصلہ کی شدید مخالفت کی ۔پارٹی نے ہیمانتا بسوا شرما کے’ لوجہاد‘سے متعلق تبصرے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی یو ڈی ایف رفیق الاسلام نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ریاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل ہندو ۔مسلم مسئلہ پر تفرقے کی سیاست کررہی ہے ۔ بی جے پی حکومت کو ترقی سے متعلق اُمور اورمسائل پر بات کرنا چاہیئے لیکن اس کے بجائے وہ ہندو مسلم سیاست کررہی ہے اور لو جہاد ، ہندو مسلم ، مدرسہ ، مغل وغیرہ جیسے مسائل اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آسام کیلئے انتہائی بدبختانہ بات ہے کیونکہ ہندوستان سیکولر اور جمہوری ملک ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت ترقیاتی اُمور پر عوام کے سامنے بات کرنے سے خوفزدہ ہے کیونکہ حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوہی ہے ۔ اب اپنا قدیم کھیل ہندو مسلم کھیلنے کی کوشش کررہی ہے ۔ قبل ازیں آسام کے وزیر تعلیم ڈاکٹر ہیمانتا بسوا شرما نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت مسلم مذہبی کتابوں کی تعلیم کیلئے عوامی پیسہ کو خرچ کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت مدرسوں میں قرآن کی تعلیم پر رقم خرچ کرتی ہے تو حکومت کو بھگوت گیتا اور بائیبل کی تعلیمات کیلئے رقم ادا کرنی چاہیئے ۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ حکومت قرآن کی تعلیم پر سرکاری رقم خرچ نہیں کرسکتی ۔ لہذا حکومت اس سلسلہ کو ختم کر کے یکسانیت لانا چاہتی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت جاریہ سال نومبر سے حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے تمام مدرسوں کو بند کردے گی ۔ حکومت کی امداد سے چلائے جانے والے ان مدرسوں کو ریگولر اسکولس میں تبدیل کردیا جائے گا ۔ بعض صورتوں میں ٹیچرس کا ریاستی اسکولوں میں تبادلہ کردیا جائے گا ۔حکومت کے اس فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے رفیق الاسلام نے کہا کہ یہ مدرسے آزادی سے قبل قائم کئے گئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ مدرسوں میں دینی تعلیم کے ساتھ عام تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نئے مضامین ، کمپیوٹر ایجوکیشن وغیرہ متعارف کرتے ہوئے مدرسوں کو بہتر بنانا چاہتی ہے لیکن حکومت نے کسی کو خوش کرنے کیلئے مدرسوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ رفیق الاسلام نے بتایا کہ ہیمانتا بسوا شرما آسام میں کانگریس دورحکومت میں بھی وزیر تعلیم تھے اور کئی مرتبہ انہوں نے مدرسوں کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے تعلیمی نظام کے ستائش کی تھی ۔ یو ڈی ایف کے رکن اسمبلی نے زور دیا کہ آسام حکومت مدرسوں کو بند کرنے کا اپنا فیصلہ واپس لیں ۔ انہوں نے ہیمانتا بسوا شرما اور بی جے پی کے لو جہاد مسئلہ پر بھی تنقید کی ۔