گوہاٹی: آسام کے ڈومڈوما قصبہ میں کلاک ٹاور کی تعمیر کیلئے مہاتما گاندھی کے مجسمے کو ہٹائے جانے کے دو دن بعد، چیف منسٹر ہمانتا بسوا سرما نے جمعہ کو کہا کہ وہ اس طرح کے اقدام سے لاعلم ہیں اور حقائق کی تصدیق کریں گے۔ ان کا یہ تبصرہ تنسوکیا انتظامیہ کے مجسمہ کو توڑنے کے اقدام پر بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ سرما نے مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی کی ایک پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے X پر لکھا کہ میں ضلع انتظامیہ کے اس فیصلے سے واقف نہیں ہوں۔ مجھے حقائق کی تصدیق کرنے دیں چیف منسٹر نے یہ بھی کہا کہ آسام مہاتما گاندھی کا بہت مقروض ہے۔ سرما نے مائیکروبلاگنگ سائٹ پر کہا ک وہ بھارت رتن گوپی ناتھ بوردولوئی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے تھے جب نہرو کی قیادت میں کانگریس پارٹی گروپنگ پلان کے تحت آسام کو پاکستان میں شامل کرنا چاہتی تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ شہر کے مرکز میں واقع مہاتما گاندھی کے مجسمہ کو چہارشنبہ کو میونسپل حکام نے ہٹا دیا تھا تاکہ وہاں کلاک ٹاور کیلئے راستہ بنایا جائے، مقامی لوگوں نے بتایا۔ انتظامیہ کے اس اقدام کے خلاف مقامی لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ جمعرات کو ڈوم ڈوما کے ایم ایل اے روپیش گوالا نے انہیں یقین دلایا کہ اسی جگہ پر بابائے قوم کا ایک نیا اور اونچا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ بی جے پی قانون ساز نے دعویٰ کیا کہ مجسمہ کچھ خستہ حال ہے اور اس جگہ کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ چھ ماہ کے اندر نیا نصب کیا جائے گا۔
تشار گاندھی نے مقامی انتظامیہ کے اس اقدام کی ایک نیوز کلپنگ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ حیرت کی بات نہیں کہ آسام میں بی جے پی حکومت نے ڈبرو گڑھ میں باپو کے مجسمہ کی جگہ کلاک ٹاور لگانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا غلامانہ نوآبادیاتی ہینگ اوور برقرار ہے۔