تین سال سے ہزاروں افراد کے وظیفے بند ۔ نئی درخواستوں کی یکسوئی بھی تعطل کا شکار
حیدرآباد2ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت سے آسراوظائف کی اجرائی میں تاخیر ضعیف شہریوں کیلئے تکلیف کا باعث ہے اور محکمہ مال کا عملہ کہنے لگا ہے کہ یکسوئی کیلئے کم از کم 90 دن لگیں گے جبکہ حکومت کی ہدایات کے مطابق کسی بھی درخواست کو اندرون 15 یوم حل کیا جانا چاہئے اور درخواست گذار کو واقف کروایا جانا چاہئے کہ درخواست کو قبول یا مسترد کیا جاچکا ہے ۔ تاہم دونوں شہروں کے تحصیلدار دفاتر میں وظیفہ پیرانہ سالی و آسراوظائف کیلئے درخواست گذاروں کو گذشتہ 2برس سے کوئی جواب نہیں دیا گیا اور اسکیم سے استفادہ کی آس میں غریب ضعیف شہری تحصیلداردفاتر کے چکرکاٹ رہے ہیں لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہورہی ۔ چارمینار منڈل کے چکر کاٹنے والے عوام سے انکشا ف ہوا کہ 3سال سے سینکڑوں افراد کے وظائف کی رقومات جاری نہیں کی گئیں اور نئی درخواستوں پر تنقیح کے نام پر 90 یوم کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ بہادرپورہ منڈل میں عوام نے بتایا کہ درخواستوں کے ادخال کے 2ماہ بعد بھی یکسوئی عمل میں نہیں ہوئی ۔ کہا جا رہاہے کہ بجٹ کی منظوری کے بعد ہی درخواستوں کی یکسوئی ممکن ہے۔بندلہ گوڑہ تحصیلدار دفتر میں درخواستوں کی یکسوئی سے متعلق سوال پر عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت سے حد عمر میں کمی کے بعد جو درخواستیں وصول ہوئی ہیں ان کی تنقیح میں مختلف وجوہات کی بناء پر تاخیر ہورہی ہے لیکن جلد ہی یکسوئی کردی جائیگی ۔ سعید آباد‘ سکندرآباد کے علاوہ دیگر دفاتر میں بھی تاخیر کے متعلق دفاتر کے عملہ کا کہناہے کہ جب تک آرڈی او اور کلکٹریا حکومت سے تنقیح اور منظوری کے احکام تک درخواستوں کی یکسوئی نہیں کی جاسکتی۔ عوام نے کلکٹر سے اپیل کی کہ وہ درخواستوں اور طویل عرصہ سے جو وظائف جاری نہیں کئے گئے ہیں ان کی اجرائی کے اقدامات کریں۔م