نئی دلی : سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث آسمانی بجلی گرنے کے مہلک واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آسمانی بجلی کے باعث ہر سال تقریباً 1,900 افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ مشرقی ریاست اوڈیشہ میں فقیر موہن یونیورسٹی کی سربراہی میں محققین کی ایک ٹیم نے بتایا کہ 1967 سے لے کر 2020 تک بھارت میں آسمانی بجلی گرنے سے 10 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2010 سے لے کر 2020 کے درمیان تک ایسے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار سے اخذ کردہ نتائج میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی طرح ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں بھی بجلی گرنے جیسے واقعات بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں توجہ ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار پر مرکوز کی گئی ہے نہ کہ بجلی گرنے کے واقعات پر، لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ میں بجلی گرنے کے واقعات تیزی سے بڑھتے اور غیر متوقع ہوتے جا رہے ہیں۔