آسٹریلیا آج نیدرلینڈزکے خلاف طاقتور مظاہرہ کیلئے پرعزم

   

نئی دہلی۔ اپنی بیٹنگ کی طاقت کے احیاء سے تقویت پانے والی آسٹریلیا کو ایک اور طاقتور مظاہروں کی تلاش ہوگی لیکن اسے چہارشنبہ کو یہاں ورلڈ کپ کے اپنے اگلے میچ میں سخت ہالینڈ کا سامنا کرنا پڑے گا تو اسے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اپنی مہم کے مایوس کن آغاز کے بعد پانچ بارکے چمپئنز نے سری لنکا اور پاکستان کے خلاف دو ٹھوس فتوحات کے ساتھ اپنا رخ موڑ دیا ہے لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ڈچ کو آسان حریف تصور کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے جو ایک عالمی ٹیم بن کر ابھر رہی ہے۔ نیدرلینڈ اس ایونٹ کی کامیاب کہانیوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس نے 12 سال کے وقفے کے بعد ورلڈ کپ میں واپسی کے بعد دھرم شالہ میں فارم میں موجود جنوبی افریقہ کو دنگ کردیا تھا اور وہ آسٹریلیا کے خلاف بھی ایک اور حیران کن نتیجہ کیلئے پرعزم ہے ۔ تاہم یہ کہنے سے کہیں زیادہ آسان ہو گا، خاص طور پر پاکستان کے خلاف آسٹریلوی ٹیم کے شاندارمظاہرے کے بعد ہالینڈز کیلئے حالات آسان نہیں ہوں گے ۔ فتوحات کے پیچھے کی وجوہات میں ان کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی طاقت، اسپنر ایڈم زمپا کی فارم میں واپسی اور فاسٹ بولر جوش ہیزل ووڈ اور مچل اسٹارک کی مسلسل کارکردگی شامل ہیں۔ ڈیوڈ وارنر اور مچل مارش کی فارم میں واپسی آسٹریلیا کے لیے اچھی خبر ہے کیونکہ وہ اپنی بے رحم بیٹنگ سے کسی بھی حریف کو پرخچے اڑا سکتے ہیں۔ ایک مثال 259 رنز کی اوپننگ شراکت ہے جو دونوں نے پاکستان کے خلاف بنائی ہے۔ مارش نے ایک اوپنر کے طور پر سات اننگز میں 108.3 کے اسٹرائیک ریٹ سے 351 رنز بنائے ہیں، زخمی ٹریوس ہیڈ کی جگہ مارش نے شاندار مظاہرہ کیا ہے حالانکہ ابتدائی مقابلوں میں وہ ناکام رہے ہیں۔ لیکن آسٹریلیا کو اپنے مڈل آرڈر میں فائر پاور شامل کرنے کی ضرورت ہوگی، خاص طور پر اس وقت اسٹیو اسمتھ اور مارنس لیبوشین کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔ جب کہ اسمتھ نے اپنی پچھلی چار اننگز میں صرف ایک بار30 کا ہندسہ عبور کیا ہے، لیبوشین نے قدرے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے حالانکہ انہوں نے ٹورنمنٹ میں ابھی نصف سنچری اسکور نہیں کی ہے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 64.70 ہے۔ ہیڈ اپنی مکمل فٹنس کے قریب ہونے کے ساتھ دہلی کا مقابلہ اسمتھ اور لیبوشین کے لیے خود کو ثابت کرنے کے لیے ایک آخری امتحان ہو سکتا ہے کیونکہ ایک اور ناکامی ان میں سے کسی کو ہیڈ کے لیے اپنی جگہ دینی پڑ سکتی ہے، جو ٹیم کو ایک آسان آف اسپن موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ گلین میکسویل اور مارکس اسٹونز نے بیٹنگ میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں لیکن وکٹ کیپر جوش انگلس نے دو اہم نصف سنچریوں کے ساتھ رنز بنائے۔ بولنگ میں، ہیزل ووڈ کامیاب رہے ہیں، زمپا نے مڈل آرڈرپریشان کرنے کی ذمہ داری بنھائی ہے اور پچھلے دو میچوں میں دو چار وکٹوں کے ساتھ واپسی کی۔ اسٹارک نے ورلڈ کپ کے تمام میچوں میں وکٹیں لینے کے اپنے خواب کی دوڑکو جاری رکھا اور ڈچ کے خلاف بارش سے متاثرہ وارم اپ گیم میں ہیٹ ٹرک لینے کے بعد اپنے امکانات کو بلند کردیا ہے ۔