آسٹریلیا نے بال ٹیمپرنگ کی، باسط علی کا الزام

   

کراچی: سابق پاکستانی بیاٹر باسط علی نے لندن میں جاری ڈبلیو ٹی سی فائنل مقابلے کے دوسرے دن کے کھیل کے دوران آسٹریلیائی ٹیم پر گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کنگارووں نے پہلی اننگز میں 469 کا اسکور بنانے کے بعد ایک مرحلہ پر ہندوستان کے پانچ وکٹ 151 رن پر گرادئیے تھے۔ باسط نے کہاکہ آسٹریلیائی ٹیم نے اننگز کے 15ویں اوور کے آس پاس گیند کو بگاڑا۔ اور اسی کی وجہ سے ہندوستانی بیٹنگ ناکام ہوئی۔ باسط نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے کہ ہندوستانی کھلاڑیوں سمیت میچ کے عہدیداروں اور کمنٹیٹرز میں سے کسی نے بھی اس بات کی نشاندہی نہیں کی۔باسط نے اپنے یوٹیوب چینل پر طنزیہ کہا کہ سب سے پہلے میں کمنٹری باکس سے میچ دیکھنے والے تجربہ کاروں اور امپائرز کی تعریف کرنا چاہوں گا! کینگرو کھلاڑیوں نے واضح طور پر گیند کے ساتھ ’’کھیلا‘‘ اور کوئی بھی اس کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہے۔ کوئی بیاٹر حیرانی ظاہر نہیں کررہا ہے۔ آخر کیا ہو رہا ہے۔ باسط علی نے پاکستان کیلئے 19 ٹسٹ اور 50 ونڈے کھیلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بات کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ بلے باز گیند کو چھوڑتے وقت بولڈ ہورہے ہیں۔ اور میں اس بات کا ثبوت دیئے دیتا ہوں۔ محمد شمی کے پھینکے گئے 54ویں اوور تک گیند کی چمک باہری طرف تھی۔ اور ایسے میں گیند اسٹیون اسمتھ کیلئے اندر کی طرف آئی۔ یہ ریورس سوئنگ نہیں ہے۔ ریورس سوئنگ وہ ہوتی ہے، جب گیند کی چمک اندر کی طرف ہوتی ہے اور گیند اندر کی طرف آتی ہے۔ باسط نے ویراٹ کوہلی اور چتیشور پجارا کا بھی ذکر کیا، جو سلسلہ وار 14ویں اور 19ویں اوور میں آوٹ ہوئے۔کیا امپائر اندھے ہوگئے ہیں؟ جو لوگ وہاں بیٹھے ہیں، وہ اتنی عام سی بات نہیں دیکھ پائے۔