آسٹریلیا کی جانب سے پابندی کے خلاف اخبارات کا منفرد احتجاج

   

ہندوستان میں بھی حکومت اس طرز کی پالیسیوں پر گامزن ، صحافت کی آزادی کو کچلنے کی کوشش

حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیا ست نیوز) حکومت آسٹریلیاء کی جانب سے انکشافات پر عائد کی جانے والی پابندی کے خلاف وہاں کے اخبارات نے اپنے صفحۂ اول کو سیاہ کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کی آزادی پر لگائی جانے والی ضرب پر احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو جو خبریں جاننے کا حق ہے انہیں خبریں پہنچانے والے صحافیوں کے خلاف مقدمات کا اندراج اور انہیں کڑی سزائیں سنائی جانا آزاد مملکت کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ ہندستان میں جو حالات ہیں وہ بھی کچھ اسی راہ پر جانے لگے ہیں کیونکہ جہاں کہیں سنسنی خیز انکشافات کئے جارہے ہیں حکومت کی جانب سے ان اداروں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے جو کہ صحافتی آزادی کے خلاف ہے۔ صحافی اپنی ذمہ داریوں کو اداکرنے کے عوض میں جیل جائیں ایسے قوانین آزاد مملکت میں خوف وہراس پیدا کرنے کے مترادف ہیں۔ آسٹریلیاء کے ان اخبارات کا احتجاج منفرد انداز کا ہے اور اگر ریاست تلنگانہ اور ہندستان میں صحافتی آزادی کا جائزہ لیا جائے تو حقائق کے انکشاف پر کئی سرکردہ صحافیوں کو اپنی ملازمتیں ترک کرنی پڑی بلکہ حکومت نے ان کے اداروں پر دباؤ ڈالتے ہوئے ان صحافیوں کو ملازمت سے علحدہ کردیا لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ ان صحافیوں نے حقائق کو منظر عام پر لانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے حکومت کی کاروائیوں کو چیالنج پیش کیا ہے اور اب حکومت ہند کی جانب سے سوشل میڈیا کے متعلق پالیسی تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس پالیسی میں حکومت کے خلاف کئے جانے والے انکشافات اور جاری کئے جانے والے بیانات کو مجرمانہ سرگرمیوں میں شمار کرنے پر غور کیا جا رہاہے تاکہ ان دلیر صحافیوں کو روکا جا سکے ۔ حکومت تلنگانہ کی بد عنوانیوں کے انکشاف کے بعد ریاست کے ایک سرکردہ صحافی کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں دیگر مقدمات میں پھانسا گیا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تاکہ ان کے اس انجام کا خوف دیگر صحافیوں پر بھی منڈلاتا رہے لیکن آسٹریلیاء میں صحافتی ادارو ںکی جانب سے احتجاج میں شامل ہوتے ہوئے یہ ثابت کردیا گیا کہ صحافی کو اس ذمہ داری پورا کرنے سے اگر روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس پر مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج معاشرہ کے حق میں بہتر نہیں ہوتے بلکہ وہ حقائق منظر عام پر ہی نہیں آسکیں گے جن کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دیا جارہاہے۔ ہندستان میں قانون حق آگہی میں ترمیم کے ذریعہ بھی یہی کوشش کی گئی ہے تاکہ سرکاری راز کا افشاء نہ ہو۔