سی آئی ٹی یوکے وفدکی آشاورکرس کے مسائل پرمشتمل یادداشت جوائنٹ کلکٹرکے حوالے
میدک، 18 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سی آئی ٹی یو کے زیر اہتمام آشا ورکرس کے مسائل کی یکسوئی کے لیے ضلع جوائنٹ کلکٹر ناگیش کو ایک یادداشت پیش کی گئی۔ اس موقع پر سی آئی ٹی یو ضلع خازن کے۔ نرسماں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں تقریباً 28 ہزار آشا ورکرس گزشتہ بیس برسوں سے غریب عوام کو طبی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان میں زیادہ تر خواتین ہیں اور وہ پسماندہ و کمزور طبقات سے تعلق رکھتی ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں آج تک کوئی قانونی سہولیات حاصل نہیں ہوئیں اور نہ ہی ان کے لیے کم از کم مقررہ تنخواہ طے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آشا ورکرس کے مسائل کی یکسوئی کے لیے 25 ستمبر 2023 سے 9 اکتوبر 2023 تک ریاست بھر میں پندرہ دن تک غیر معینہ ہڑتال بھی کی گئی تھی، جس دوران اْس وقت کی حکومت نے کئی وعدے کیے تھے۔ بعد ازاں اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس پارٹی نے اپنے منشور میں آشا ورکرس کی تنخواہوں میں اضافہ اور ملازمت کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آئے دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب تک تنخواہوں میں اضافہ عمل میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ روپے انشورنس، 50 ہزار روپے آخری رسومات کے اخراجات، ریٹائرمنٹ فوائد سمیت دیگر کئی وعدے کیے گئے تھے مگر ان پر بھی عمل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ پی آر سی بقایا جات، جذام مہم، پلس پولیو اور انتخابی ڈیوٹی کے واجبات کئی برسوں سے زیر التواء ہیں جبکہ دو ماہ جنوری اور فروری کے اعزازیہ جات بھی ادا نہیں کیے گئے۔ اس کے سبب آشا ورکرس شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسمبلی بجٹ اجلاس میں آشا ورکرس کے لیے 18 ہزار روپئے مقررہ تنخواہ منظور کی جائے، این ایچ ایم کے لیے مناسب فنڈس مختص کیے جائیں اور زیر التواء واجبات فوری ادا کیے جائیں، بصورت دیگر آشا ورکرس متحد ہوکر بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کریں گی۔ اس موقع پر سی آئی ٹی یو ضلع معاون معتمد سنتوش، آشا ورکرس یونین ضلع صدر شیاملا اور قائدین رانی، دیومما، نرملہ، گوپمّا، رینوکا، درگا، چندرکلا، سنگمیشوری، کویتا اور لکشمی کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔