حیدرآباد۔ ضلع کمارم بھیم آصف آباد میں کئی آبشار پائے جاتے ہیں۔ ان میں گنڈالا اور مٹے آبشار بھی شامل ہیں۔ تاہم جنگلات کے ایک مہم جو کی جانب سے تریانی منڈل کے جنگلات میں ایک نئے آبشار کا چند دن قبل پتہ چلایا گیا ہے ۔ انہوں نے اس آبشار کو بائیسن آبشار کا نام دیا ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے گنے دھاری فاریسٹ رینج افیسر ٹی ایچ پرانئے نے کہا کہ انہوں نے تریانی منڈل کے جنگلات میں اس آبشار کا پتہ چلایا ہے ۔ یہ گنڈالا آبشار سے دو کیلومیٹر کے فصلے پر ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ جنگلات میں گشت کر رہے تھے انہیں یہاں بے مثال اور پرکشش قدرتی عجوبہ کو دیکھ کر حیرت ہوئی ۔ تقریبا 60 فیٹ کی بلندی سے پانی نیچے گار رہا تھا ۔ یہ ایک بہترین نظارہ تھا ۔ پرانئے نے کہا کہ مقامی باشندے بھی اس مقام سے اب تک واقف نہیں تھے اور انہوں نے اس تعلق سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بنیادی سہولیات جیسے پینے کا پانی اور بیت الخلا وغیرہ کی سہولت فراہم کرتے ہوئے اسے ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم پانچ کیلومیٹر تک پیدل سفر کرتے ہوئے اس آبشار تک پہونچا جاسکتا ہے ۔ تریانی کے جنگلات میںکچھ دوسرے آبشار بھی ہیں جن میں چنتالا مڈارا ‘ پلی گنڈم ‘ چچرلوڈی اور دوسرے موسمی آبشار بھی شامل ہیں۔
