الیگزینڈر اعظم جاہ نے عظمت جاہ کی جانشینی کو غیر قانونی قرار دیا، آسٹریلیا کی ہیلن عائشہ جاہ کے فرزند نے اثاثہ جات کی فروخت کا اندیشہ ظاہر کیا ہے
حیدرآباد۔/22 اکٹوبر،( سیاست نیوز) آصف جاہی خاندان میں پھر ایک مرتبہ اثاثہ جات کی تقسیم کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا ہوچکا ہے۔ آصف ثامن نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کے انتقال کے بعد اثاثہ جات کو لے کر ان کے افراد خاندان میں قانونی کشمکش شروع ہوچکی ہے جو گذشتہ کے تنازعات کے مقابلہ زیادہ سنگین دیکھی جارہی ہے۔ نواب میر برکت علی خان کے دوسرے فرزند الیگزینڈر اعظم جاہ نے عظمت جاہ کو نویں نظام کے طور پر دی گئی جانشینی کو چیالنج کیا ہے۔ مکرم جاہ کا گذشتہ سال طویل علالت کے بعد ترکی میں انتقال ہوا اور تدفین حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کے احاطہ میں واقع آصف جاہی مقبرہ میں عمل میں آئی۔ الیگزینڈر اعظم جاہ بتایا جاتا ہے کہ مکرم جاہ کی دوسری شریک حیات ہیلن عائشہ جاہ کے فرزند ہیں اور وہ آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ عائشہ جاہ کو مکرم جاہ نے طلاق دے دی تھی اور 1989 میں ان کا آسٹریلیا میں انتقال ہوا تھا۔ الیگزینڈر اعظم جاہ نے نویں نظام کے طور پر عظمت جاہ کی جانشینی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے آصف ثامن کے اثاثہ جات میں حصہ داری کا مطالبہ کیا ہے۔ آصف ثامن کے اثاثہ جات میں فلک نما پیالیس، چو محلہ پیالیس، چیریان پیالیس، پرانی حویلی اور دیگر محلات شامل ہیں۔ ان کی مالیت ایک بلین ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ حیدرآباد کے علاوہ بھی ملک کے دیگر علاقوں میں آصف ثامن کی جائیدادیں موجود ہیں۔ الیگزینڈر اعظم جاہ نے جنوری 2023 میں اپنے والد نواب میر برکت علی خان کی حیدرآباد میں آخری رسومات میں شرکت نہیں کی تھی۔ تدفین کے موقع پر عظمت جاہ ان کی والدہ اسریٰ برگین نیلوفر، مفخم جاہ بہادر اور آصف جاہی خاندان کی اہم شخصیتیں موجود تھیں۔ حیدرآباد کے چیف جج سٹی سیول کورٹ کے اجلاس پر مقدمہ درج کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسریٰ برگین نے اپنے فرزند عظمت جاہ کے ساتھ آصف ثامن کی جائیدادوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ تقریباً جائیدادیں یا پھر ان میں سے چند فروخت کردی جائیں گی۔ مقدمہ میں الیگزینڈر اعظم جاہ نے عظمت جاہ، شیخ یار جاہ، نیلوفر الف جاہ اور ہندوستان کی ہوٹل کمپنی کو فریق بنایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عظمت جاہ اور ان کی والدہ اسریٰ کو عدالت سے نوٹس حاصل ہوئی ہے اور وہ اس سلسلہ میں وکلاء سے مشاورت کررہے ہیں۔ مکرم جاہ نے ایک سے زائد شادیاں کیں اور حیدرآباد سے آسٹریلیا منتقل ہوگئے تھے۔ انتقال سے قبل انہوں نے حیدرآباد کے دورہ کے موقع پر چیریان پیالیس میں قیام کیا تھا۔ الیگزینڈر اعظم جاہ نے کہا کہ وہ عدالت سے اثاثہ جات، جواہرات اور نادر اشیاء کی خاندانی تقسیم کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عظمت جاہ اور ان کی والدہ کے زیر کنٹرول جائیدادوں کی آمدنی میں 2/6 فیصد حصہ کے دعویدار ہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ماں اور بیٹے نے بھاری رقم مختلف ٹرسٹس اور جائیدادوں سے منتقل کردی ہیں۔ شریعت کے اعتبار سے آصف ثامن کی جائیداد ان کے چار بچوں میں تقسیم کی جانی چاہیئے اور عظمت جاہ دوسرے بچوں کی طرح 2/6 فیصد کے حصہ دار ہیں۔ الیگزینڈر اعظم جاہ نے شکایت کی کہ انہیں والد کے اثاثہ جات میں کچھ نہیں دیا گیا حتیٰ کہ ان کے ملبوسات اور قرآن مجید کے نسخے بھی تقسیم نہیں کئے گئے۔1