۔17 ستمبر کو سیاسی قائدین کی یوم آزادی تقاریب سے سلطنت آصفیہ کے افراد خاندان دلبرداشتہ
حیدرآباد۔18ستمبر(سیاست نیوز) سیاسی جماعتوں کی جانب سے 17ستمبر کو یوم انضمام کے بجائے یوم آزادی منانے پر سلطنت آصفیہ کے افراد خاندان دلبرداشتہ ہیں اور حکومت کی جانب سے 17 ستمبر کو ریاست بھر میں ریالیوں کے انعقاد کی اجازت کے ذریعہ ’’یوم آزادی ‘‘ کی توثیق کی گئی ہے جو کہ خاندان آصفیہ کے لئے باعث تکلیف ہے کیونکہ آصف سابع نواب میر عثمان علی خان بہادر کے جلوس جنازہ میں 10لاکھ افراد نے شرکت کی تھی اور حکومت وقت نے اس دن تعطیل کا اعلان کیا تھا ۔اگر آصف سابع یا سلاطین آصفیہ ظالم حکمراں ہوتے اور ان سے نجات حاصل کی جاتی تو ’’یوم آزادی‘‘ کی اصطلاح پر اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی لیکن سیاسی جماعتیں اپنے حقیر مفادات کے لئے سلاطین آصفیہ کو ظالم و جابر حکمراں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور 17 ستمبر کویوم آزادی کے طور پر مناتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ریاست دکن حیدرآباد کو ظالم حکمراں سے نجات حاصل ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دن ریاست دکن کا انضمام کیا گیا تھا ۔ خاندان آصفیہ نے حیدرآباد میں یوم آزادی کے انعقاد کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلاطین آصفیہ کی نسلیں دنیا کے کئی ممالک میں آباد ہیں اور ہر جگہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن ہندستان میں اس خاندان کی بالواسطہ توہین کی جا رہی ہے جبکہ اس خاندان کے حکمراں طبقہ نے اپنے دورحکمرانی میں جو خدمات انجام دیئے ہیں اس کا 10 فیصد بھی گذشتہ 70 سال کے دوران انجام نہیں دیا گیا اور آصفیہ حکمرانوں نے کوئی بھی فیصلہ کسی ایک ذات ‘ مذہب یا نسل کے ماننے والوں کو نظر میں رکھتے ہوئے نہیں کیا بلکہ ہر فیصلہ میں رعایا کے مفاد کو ترجیح دی گئی ۔ خاندان آصفیہ کے چشم و چراغ جناب نجف علی خان نے کہا کہ لبریشن ڈے اور یوم آزادی کی اصطلاح کا استعمال خاندان آصفیہ کے لئے تکلیف دہ ہے کیونکہ انضمام ریاست دکن حیدرآباد کے بعد آصف سابع نواب میر عثمان علی خان بہادر کو حکومت ہند نے ’’راج پرمکھ‘‘ کے عہدہ پر فائز کیا تھا ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر آصف سابع ظالم حکمراں ہوتے تو کیا انہیں راج پرمکھ کے عہدہ پر فائز کیا جاتا ! انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ان کی وفات پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا اور 10لاکھ افراد نے ان کے جلوس جنازہ میں شرکت کی جس میں ہر مذہب‘ ذات اور طبقہ سے تعلق رکھنے والے عوام شامل تھے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سلاطین آصفیہ نے عوام کے دلوں پر حکمرانی کی ہے۔
جناب نجف علی خان نے کہا کہ نفرت انگیز مہم اتنی شدت اختیار کر چکی ہے کہ نظام کو بھی اب نفرت کے فروغ کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے جبکہ ان کے کارہائے نمایاں کا جائزہ لیا جائے تو شہر حیدرآباد کی مجموعی ترقی ان کے دورکی ہی ہے ۔ انہو ںنے سیاسی جماعتو ںکی جانب سے کئے جانے والے پروپگنڈہ کو دل آزاری اور جذبات کو مجروح کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔ خاندان آصفیہ کے ایک اور فرد نے بتایا کہ آصف سابع کی سیکولر طرز حکمرانی کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں اور انہوں نے اپنے دور حکومت میں عوام کو جو سہولتیں فراہم کی ہیں انہیں موجودہ حکومت برقرار رکھنے کی بھی اہل ثابت نہیں ہورہی ہے۔ انہو ںنے نام کا انکشاف نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیاح جو حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں وہ حکومت آصفیہ اور قطب شاہوں کی تاریخی عمارتوں کا مشاہدہ کرنے کیلئے آتے ہیں وہ کسی ہائی ٹیک سٹی یا شہر کے اطراف بسائی جانے والی بستیوں کے مشاہدہ کے لئے نہیں آتے۔انہوں نے مزید کہا کہ سلطنت آصفیہ کے خاتمہ اور انضمام حیدرآباد کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں نے شہر و ریاست کو پولیس اسٹیشنوں کے علاوہ کونسی نئی تعمیرات فراہم کی ہیں!شہر اور اضلاع میں پولیس اسٹیشن قائم کئے گئے جبکہ سلطنت آصفیہ نے آبی ذخائر ‘ جامعات‘ تحقیقی ادارے اور طبی مراکز و دواخانے تعمیر کئے تھے اور ان میں کسی مخصوص مذہب یا طبقہ کے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچایا جاتا بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے سلطنت آصفیہ کے دور میں قائم کئے جانے والے اداروں سے استفادہ کیا اور آج بھی استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ ریاست دکن حیدرآباد کی تاریخ میں سلطنت آصفیہ کا دور سیکولر اور ترقی یافتہ دور میں شمار کیا جاتا ہے لیکن موجودہ دور میں سیاستداں اپنے مفاد کے لئے آصف سابع کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ بد ترین بددیانتی کا ثبوت ہے۔نظام کے افراد خاندان نے کہا کہ اگر ریاست دکن کے عوام غلام ہوتے یا مظومیت کا شکار ہوتے تو سیاسی جماعتوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح لبریشن ڈے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن ہندستان کے ساتھ ریاست کے انضمام کو یوم آزادی کے طور پر پیش کرتے ہوئے نوجوان نسلوں کے ذہنوں کو مسخ کیا جا رہاہے جس کے سبب آصف جاہی خاندان سے تعلق رکھنے والوں کو ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور تاریخ مسخ ہونے لگی ہے۔