آلودگی سے پاک پانی کی سربراہی بیشتر ریاستوں کیلئے ایک اہم چیالنج

   

میزورم اور سکم صاف پانی میں سرفہرست، صنعتی اداروں کے قیام سے کئی ریاستوں میں ذخائر آب متاثر

حیدرآباد۔ 21 جون (سیاست نیوز) ہندوستان میں عوام کو آلودگی سے پاک پینے کے پانی کی سربراہ کا معاملہ حکومتوں کے لئے چیالنج بن چکا ہے۔ صنعتی ترقی کے نتیجہ میں کئی ریاستوں میں آبی ذخائر آلودگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 2025 میں ہندوستان کے بیشتر شہروں میں آبی بحران کا سامنا تھا۔ 70 فیصد سے زائد ذخائر آب آلودگی کا شکار ہوئے اور حکومتوں کو صاف پینے کے پانی کی سربراہی کے لئے جدوجہد کرنی پڑی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں آبی آلودگی کی شرح مختلف درج کی گئی ہے۔ آلودگی سے پاک پانی کی سربراہی میں میزورم ملک میں سرفہرست ہے۔ سکم اور اروناچل پردیش میں بھی پانی میں آلودگی کی شرح کم درج کی گئی۔ شمال مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں پانی کو آلودگی سے پاک بنانے کے لئے منظم منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ آبی ذخائر کو آلودگی سے پاک کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے جامع ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ سروے کے مطابق ایسی ریاستیں جہاں شہری علاقوں یا پھر آبی ذخائر کے قریب صنعتی اداروں کے قیام کی اجازت دی گئی وہاں ذخائر آب آلودگی سے متاثر ہوئے ہیں۔ میزورم میں 92.5 فیصد پانی آلودگی سے پاک درج کیا گیا ہے۔ سکم میں 91 اور اروناچل پردیش میں 90 فیصد آبی ذخائر محفوظ پائے گئے۔ میگھالیہ، منی پور، ترپورہ کے علاوہ کیرالا میں بھی پانی میں آلودگی کی شرح کم درج کی گئی ہے۔ کیرالا میں 85 فیصد پانی کو آلودگی سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں 74 فیصد جبکہ آندھرا پردیش میں 70 فیصد پانی سروے میں معیاری پایا گیا۔ ذخائر آب کے آلودگی کا شکار ہونے کی وجوہات میں صنعتی فضلا اور شہری علاقوں کی سیویج لائنوں کا ذخائر آب میں شامل ہونا ہے۔ 1؍F