اندور ۔ 6 جون : آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا 28 واں اجلاس عام اندرون میں 3 اور 4 جون کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں کئی تجاویز منظور کی گئی ہیں۔
1۔ یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ ملک میں نفرت کا زہر پھیلایا جا رہا ہے اور اس کو سیاسی لڑائی کا ہتھیار بنایا جا رہا ہے جو ملک کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ جنگ آزادی کے مجاہدین، دستور کے مرتبین اور ملک کے اولین معماروں نے اس ملک کے لئے جو راستہ اختیار کیا تھا، یہ اس کے بالکل بر خلاف ہے۔ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب، قبائل، زبانوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملک کی خدمت کی ہے اور اس کو آگے بڑھانے میں یکساں کردار ادا کیا ہے، اگر یہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ ختم ہوگیا تو ملک کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے گا۔ اس لئے یہ اجلاس حکومت سے، محب وطن شہریوں سے، مذہبی قائدین اور دانشوروں سے، قانون دانوں، سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ وہ نفرت کی اس آگ کو پوری قوت کے ساتھ بجھانے کی کوشش کریں ورنہ یہ آگ آتش فشاں بن جائے گی، اور ملک کی تہذیب ، اس کی نیک نامی‘ اس کی ترقی اور اس کی اخلاقی وجاہت سب کو جلا کر خاک کر دے گی۔
2۔ قانون انسانی سماج کو مہذب بناتا ہے، ظالموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، مظلوموں کو انصاف فراہم کرتا ہے اور اس کے لئے حصول انصاف کی امید ہوتا ہے، لاقانونیت سماج کو انارکی میں مبتلا کر دیتی ہے اس لئے حکومت ہو یا عوام، اکثریت ہو یا اقلیت ، برسراقتدار گروہ ہو یا اپوزیشن، سرمایہ دار ہو یاغریب و مزدور، سب کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ لیکن اس وقت بدقسمتی سے ملک میں لاقانویت کا ماحول بن رہا ہے، ماب لنچنگ ہو رہی ہے ، ملزم پر کیس ثابت ہونے سے پہلے اس کو سزا دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو مکانات دسیوں سال سے بنے ہوئے ہیں، جو حکومت اور انتظامیہ کی نظروں کے سامنے بنے اور جن سے قانونی واجبات بھی وصول کئے جاتے رہے، ان کو بلڈوزر کے ذریعہ لمحوں میں زمیںدوز کر دیا جاتا ہے۔ احتجاج کا دستوری حق استعمال کرنے والے اور پْر امن طور پر اپنا موقف پیش کرنے والوں کو سنگین دفعات کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے اور جرم ثابت کئے بغیر مدتوں ان کو جیل میں رکھا جاتا ہے، یہ سب لاقانونیت کی بدترین شکلیں ہیں۔ لاقانونیت عوام کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے بہرحال قابل مذمت ہے، اس کو روکنا حکومت کا اور تمام باشندگان ملک کا فریضہ ہے۔
3۔ ملک کے دستور نے ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی ہے، یہ اس کا بنیادی حق ہے، اس میں پرسنل لا بھی شامل ہے۔ یہ اجلاس حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کا احترام کرے، پرسنل لا کے ذیل میں مختلف گروہوں کے جو تشخصات ہیں، ان کو ختم کر کے یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ ایک غیر دستوری بات ہوگی، یہ اتنے متنوع اور مختلف مذاہب اور تہذیب کے حامل ملک کے لئے نہ موزوں ہے اور نہ ہی مفید، اگر اس کو پارلیمنٹ میں اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے ملک کا اتحاد متآثر ہوگا، ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوگی اور اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا۔ اس لئے بورڈ کا یہ اجلاس جو مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے نمائندوں پر مشتمل ہے، حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس ارادہ سے باز آجائے اور ملک کے حقیقی مسائل پر توجہ کرے۔
4۔ عبادت گاہوں سے متعلق 1991ء کا قانون خود پارلیمنٹ کا منظور شدہ کردہ قانون ہے، اس کو قائم رکھنا حکومت کا فریضہ ہے اور اسی میں ملک کا مفاد بھی ہے‘ ورنہ پورے ملک میں مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی شروع ہو جائے گی، جو ملک کی بہت بڑی بدبختی ہوگی۔ اس وقت گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ سے متعلق نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ کے جو متواتر فیصلے آرہے ہیں اس نے مسلمانوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ 1991 ایکٹ کی موجودگی کے باوجود قدیم مسجدوں پر یلغار شروع ہوچکی ہے۔ بور ڈ کا یہ اجلاس یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہے کہ مساجد اللہ کا گھر ہے، اسلام کا یہ مسلمہ اصول ہے ناجائز طریقہ سے حاصل کی گئی زمین پر مسجد تعمیر نہیں کی جاسکتی، اس لئے یہ الزام انتہائی بے بنیاد اور لچر ہے کہ بعض مساجد کسی دوسرے کی عبادت گاہ پر تعمیر کی گئی۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس حقیقت پر مہر لگادی ہے۔لہذا بور ڈ کا یہ اجلاس حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ 1991 ایکٹ کو سختی سے نافذ کرے، اسی میں ملک کی بھلائی اور خیر خواہی ہے۔
5۔ ملک کی جمہوریت کو پرکھنے کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ ملک کی اقلیتیں کتنی محفوظ و مامون ہیں۔ ان کے حقوق کو کتنا تحفظ حاصل ہے، افسوس کہ مسلمان تو یہاں فرقہ پرست عناصر کی چیرہ دستیون کا شکار ہوتے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں حکومت کی اَن دیکھی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔لیکن اب ملک کی دوسری اقلیتیں بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں، جس کی بدترین مثال اس وقت منی پور میں عیسائی اقلیت کی جان ومال پر حملے اور ان کی عبادت گاہوں کو نذر آتش کرنے کا واقعہ ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شرپسندوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے، ملک کی سیکولر قدروں کی حفاظت کرے اور عالمی سطح پر ہندوستان کے چہرے کو داغ دار ہونے سے بچائے۔
6۔ اوقاف دینی وانسانی مقاصد کے لئے مسلمانوں کی جانب سے دی جانے والی املاک ہیں، جن کو شرعاََ وقانوناََ اْن کے مقررہ مقاصد ہی پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ حکومت یا عوام کی طرف سے وقف کی جائیداد پر قابض ہو جانا یہ کھلے طور پر غصب ہے، خواہ یہ کسی مسلمان کی طرف سے ہو یا غیر مسلم کی طرف سے، ملک کے کسی شہری کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے، بہر حال یہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔ اس لئے بورڈ اوقاف کے سلسلہ میں حکومت کے بعض نمائندوں کی طرف سے جاری کئے جانے والے ان بیانات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے جس میں مسلمانوں کو ان کے اوقاف سے محروم کرنے کے جذبہ کا اظہار ہوتا ہے اور حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی قدم سے باز رہے نیز مسلمانوں کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اوقاف کی حفاظت کے لئے مقامی طور پر بھرپور کوشش کریں ، افتادہ اراضی کی احاطہ بندی کرائیں، اوقاف کو ان کے مقررہ مقاصد نیز جہاں ضرورت ہے، وہاں ملت کے نونہالوں کے تعلیمی مقاصد کے لئے استعمال کریں۔
7۔ مدارس ایسے تعلیمی ادارے ہیں، جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور پڑھنے والوں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ انسانوں سے محبت اور مخلوق کی خدمت کرنے والے افراد ہیں۔ یہ ادارے آزادی کے بعد ہی سے قائم ہیں، یہ بالکل اسی طرح ہیں جیسے سنسکرت کی تعلیم کے لئے پاٹھ شالے قائم کئے گئے تھے اور جو اب بھی موجود ہیں۔ مگر افسوس کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں مدارس کو بند کرنے اور ان کی املاک کو تباہ کرنے کی حکومتی سطح سے کوشش کی جا رہی ہے۔