سری نگر: آل جموں وکشمیر پنچایت کانفرنس نے بدھ کے روز یہاں پریس کالونی میں کئی مطالبات کو لے کر احتجاج درج کیا۔احتجاجی خصوصی طور پر جموں وکشمیر میں تھری ٹائر پنچایتی راج سسٹم انتخابات کے بیک وقت انعقاد کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ایک احتجاجی نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کی طرف سے شروعات کی گئی ہیں کہ جموں و کشمیر میں دوبارہ پنچایتی انتخابات منعقد ہوں۔انہوں نے کہا: ‘ہمارا مطالبہ ہے کہ جموں وکشمیر میں تھری ٹائر پنچایتی راج سسٹم کے انتخابات بیک وقت منعقد ہونے چاہئے کیونکہ اس سسٹم کے پہلے ٹائر کی ٹرم 2023 میں، دوسری 2024 میں اور تیسری 2025 میں ختم ہو رہی ہے ‘۔ان کا کہنا تھا: ‘جموں وکشمیر میں جو پر امن ماحول ہے یہاں جو جی ٹونٹی اجلاس منعقد ہوا وہ سرپنچوں کی قربانیوں کا نیتجہ ہے ‘۔موصوف احتجاجی نے کہا: ‘ہم جموں و کشمیر سرکار اور مرکزی سرکار کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ جب سال 2018 میں جمہوریت کا کوئی نام لیوا نہیں تھا، سیاسی جماعتیں بائیکاٹ پر تھیں اس وقت ہم لوگوں نے جمہوریت کے پودے کو پروان چڑھایا’۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے دو درجن کے قریب لوگ شہید ہوگئے جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ‘۔ایک اور احتجاجی خاتون سرپنچ نے بتایا کہ ہمارے دوسرے مطالبات میں چاول اتنا ہی دیا جانا چاہئے جتنا پہلے دیا جاتا تھا اور پانی اور بجلی کی بل نہیں آنی چاہئے اور نہ ہی بجلی کے میٹر نصب ہونے چاہئے ۔