آم کی خریداری میں کمی ، قیمت میں گراوٹ

   

آن لائن فروخت و گھر گھر ڈیلیوری ، کاشتکار نقصان کا شکار
حیدرآباد۔ لاک ڈاؤن نے پھلوں کے بادشاہ آم کو بھی مشکلات میں مبتلاء کیا ہوا ہے کیونکہ شہر حیدرآباد وسکندرآباد کے بازارو ںمیں آم کے شوقین موجود ہیں تاہم موجودہ حالات کے دوران آم کی خریدی پر شہریوں کی توجہ نہیں ہے بلکہ شہر میں پائے جانے والے مختلف اقسام کے آم کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی آم کے خریداروں میں کوئی رجحان نہیں دیکھا جا رہاہے۔ آم کے کاشتکاروں کی جانب سے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کیلئے مختلف طریقہ کار اختیار کئے جا رہے ہیں جن میں آن لائن باکس میں فروخت کے علاوہ گھر گھر ڈیلیوری کے اقدامات کے ساتھ آرگینک اور بغیر کسی کیمیکل کے پکائے گئے آم کی تشہیر کی جا رہی ہے اس کے باوجود بھی آم گاہکوں کو راغب کرنے میں ناکام ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہریوں کی معاشی حالت ابتر ہونے کے سبب ان کا رجحان آم کی خریدی کی جانب نہیں ہے ۔شہر حیدرآباد میں حمایت‘بے نشان‘ رسال ‘ بینگن پلی کے علاوہ دیگر اقسام کے آم میں گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران قیمتوں میں بھاری کمی ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ جن علاقوں سے آم حیدرآباد پہنچ رہا ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی ہے لیکن فروخت نہ ہونے کے سبب قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد اورتلنگانہ سے ملک کی دیگر ریاستوں کو جو آم روانہ کیا جاتا تھا اس میں بھی کمی کے سبب مکمل پیداوار تلنگانہ کے ہی اضلاع میں فروخت کی جارہی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے آم کی پیداوار کرنے والے کاشتکاروں کو بھی نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔