آندھرابینک کو ضم کرنے کے فیصلہ سے دونوں تلگو ریاستوں کے عوام تشویش کا شکار

   

حیدرآباد،یکم ستمبر(یواین آئی)عوامی شعبہ کے بینکس کے انضمام کے سلسلہ میں قدیم آندھرابینک کو بھی ضم کرنے مرکز کی این ڈی اے حکومت کے فیصلہ نے دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اوراے پی کے عوام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔96سالہ آندھرابینک کا قیام عظیم مجاہد آزادی اور گاندھی جی کے قریبی و مدھیہ پردیش کے سابق گورنر پٹابھی سیتارامیا نے عمل میں لایاتھا۔عوام کا یہ ماننا ہے کہ حکومت ان کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے ۔جلد ہی آندھرا بینک کا نام غائب ہوجائے گا جس سے لوگوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچے گی۔اے پی کے مچھلی پٹنم میں مقیم پٹابھی سیتارامیا کے ارکان خاندان نے کہا کہ اس بینک کو ضم کرنے کے فیصلہ کی خبران کے لئے ایک بُرے دن کی طرح تھی کیونکہ اس کے بانی ذات میں انجمن تھے ۔اس بینک کو ایک لاکھ روپئے کے سرمایہ سے شروع کیا گیا تھا۔آندھرابینک کے ملازمین نے اس انضمام کے خلاف احتجاج کیا اور کہاکہ مرکز نجی شعبہ کی بینکنگ شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ بینک نقصان میں چل رہا ہے ۔اس سہ ماہی میں اس بینک کو منافع ہوا ہے اور یہ بہتر مالیاتی موقف کا حامل ہے ۔