نائب صدر اے پی سی سی تلسی ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 18 اگست (سیاست نیوز) آندھراپردیش کانگریس کمیٹی نے چیف منسٹر مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی طرز کارکردگی و بالواسطہ دورہ امریکہ کو ہدف ملامت بنایا اور کہا کہ ریاست میں سیلاب کی صورتحال کے باوجود دورہ امریکہ کو ترجیح دینے کو دیکھتے ہوئے ایسا دکھائی دیتا ہے جیساکہ ’’روم شہر جل رہا تھا۔ نیرو چکرورتی بانسری بجا رہا تھا۔ نائب صدر ریاستی کانگریس کمیٹی آندھراپردیش مسٹر تلسی ریڈی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریاستی عوام دریائے کرشنا میں شدید سیلاب کی وجہ سے پریشان مشکلات سے دوچار ہیں تو چیف منسٹر ریاست کے حالات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی دختر کیلئے نشست حاصل کرکے داخلہ دلوانے کیلئے دورہ امریکہ کو اپنی اولین ترجیح دی ہے جبکہ وہ امریکہ روانہ نہ ہوکر بھی اپنے کسی عہدیدار کو روانہ کرنے پر بھی اپنی دختر کو کسی بھی یونیورسٹی میں بھی داخلہ یقینی طور پر حاصل ہوسکتا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں مسٹر کے روشیا جب چیف منسٹر تھے تب یعنی سال 2009ء میں سری سیلم پراجکٹ میں 25 لاکھ کیوسیکس پانی کا ذخیرہ جمع ہوگیا تھا۔ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مسٹر کے روشیا نے سکریٹریٹ میں ہی شب بسری کرکے حالات کا جائزہ لینے کو اپنی اولین ترجیح دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوداوری کے فاضل پانی کے تعلق سے مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے اظہارکردہ خیالات سے ان کی حقیقت کا اندازہ ہوچکا۔ مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی قیامگاہ کے روبرو خودکشی کرلینے کا بھی مسٹر بدھا وینکنا رکن آندھراپردیش ریاستی قانون ساز کونسل نے اعلان کیا اور مرکزی حکومت سے سابق چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔
