جگن موہن ریڈی حکومت کا اعلان، ترقی میں رکاوٹ کیلئے مفاد حاصلہ کی سازش
حیدرآباد: آندھراپردیش حکومت نے حالیہ عرصہ میں مندروں پر حملے کے واقعات میں اضافہ سے نمٹنے کیلئے جگن موہن ریڈی حکومت نے ریاستی اور ضلعی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ چیف سکریٹری ادتیہ ناتھ داس نے جی او ایم ایس 6 جاری کرتے ہوئے کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کیا ۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ بعض مفادات حاصلہ مندروں پر حملہ کے ذریعہ فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حکومت کا امیج متاثر ہو۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کیلئے حکومت سخت قدم اٹھائے گی ۔ فرقہ وارانہ منافرت سے معاشی اور سماجی ترقی پر پڑھنے والے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت نے ریاستی اور ضلعی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی سطح کی کمیٹی کے صدرنشین چیف سکریٹری ہوں گے جبکہ ڈائرکٹر جنرل پولیس نائب صدر نشین ہوں گے۔ ہندو مسلم ، کرسچین ، سکھ ، بدھسٹ ، جین اور دیگر مذاہب سے ایک ایک نمائندہ کو شامل کیا جائے گا۔ پرنسپل سکریٹری ہوم ، پرنسپل سکریٹری انڈومنٹ اور پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ پرنسپل سکریٹری جی اے ڈی کنوینر ہوں گے۔ ضلع سطح کی کمیٹی کے صدر نشین ضلع کلکٹر اور نائب صدر نشین ضلع ایس پی ہوں گے۔ تمام مذاہب کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کو بطور ارکان شامل کیا جائے گا۔ یہ کمیٹیاں وقفہ وقفہ سے اجلاس منعقد کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے اقدامات اٹھائیں گی۔ عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف مقدمات کا جائزہ لیا جائے گا ۔ ضلع سطح کی کمیٹی کو بھی مختلف امور کی ذمہ داری دی گئی ہے۔